03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کوڈیٹ مارنے پرمعلق کرنا
81553طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

اگرکوئی شخص اپنی بیوی سے کہےکہ تم نے کسی لڑکے کے ساتھ ڈیٹ ماراتوتمہیں تین طلاق ہیں،ڈیٹ مارنے سےمراد یہ کہ زناکرنا،اس کے شوہرکو اس کے ڈیٹ پرجانے سے کوئی مسئلہ نہیں،بلکہ ڈیٹ مارنے سے تھا،اب اگربیوی بولے میں صرف ڈیٹ پرگئی تھی،لیکن میں نے وہ کام نہیں کیا توایسی صورت میں کیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عرف عام میں ڈیٹ  پرجانے یاڈیٹ ہونے سے مراد دولوگوں کے درمیان رومانوی رشتہ کاہوناہوتاہے،لہذااگر  شوہرکی یہ لفظ بولتے وقت کوئی نیت نہیں تھی تواس صورت میں تین طلاقیں واقع شمارہوں گی،کیونکہ اس کے عرفی مفہوم میں ہرطرح کارومانوی تعلق شامل ہےاوراگریہ لفظ بولتے وقت زناکرنامراد تھا توایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی،کیونکہ یہ معنی (زناکرنا) بھی ڈیٹ کے مفہوم بھی شامل ہے اورلفظ کےمفہوم میں شامل کسی معنی کی نیت کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ڈیٹ پرجاناواضح بے حیائی ہے،خاص طورپرشادی شدہ عورت کاجانااورشوہرکواس سے کوئی مسئلہ بھی نہ ہوتویہ اورخطرناک بات ہے،اللہ تعالی فرماتے ہیں :جولوگ بے حیائی پھیلاتے ہیں توان کے لیے دنیااورآخرت میں دردناک عذاب ہے،اس لئے اس عمل سے فوری طورپر مرد اورعورت دونوں سچی توبہ کریں اوراللہ کے عذاب سے ڈریں۔

حوالہ جات

فی غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (ج 1 / ص 372):

 قوله : الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض ، يعني متى أمكن اعتبار اللفظ لما في الجامع البزازي ، والأصل اللفظ إن أمكن ، وإلا فالغرض نعم الأيمان مبنية على العرف عندنا لا على الحقيقة اللغوية كما نقل عن الشافعي رحمه الله وعلى الاستعمال القرآني كما نقل عن مالك ، وعلى النية مطلقا كما نقل عن أحمد رحمه الله قال في النهر : والمراد عرف الحالف ؛ لأن المراد ظاهر ، أو المقصود غالبا فإن كان من أهل اللغة اعتبر فيه عرف أهلها ، أو لم يكن اعتبر فيه عرف غيرهم ، وفي مشترك تعتبر اللغة ، على أنها العرف ( انتهى ) .

وفي الفتح : الأيمان مبنية على العرف إذا لم تكن نية فإن كانت ، واللفظ يحتمله ، انعقدت اليمين باعتبارها۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۸/ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب