03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق دینے کے بعد شوہر کا انکار
81492طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

مفتیان کرام !

گزارش یہ ہے کہ میری بہن حسینہ خاتون بنت دوست محمد کو اپنے شوہر محمد نواز ولد شیر محمد نے تین دفعہ طلاق دی ہے ،اب رشتہ داروں اور خواتین کو اپنے ساتھ لارہاہے،طلاق دینے کے فوری بعد ان سے پوچھا کہ طلاق کیوں دی؟کہا:غصہ میں طلاق دی ۔اب کہتاہے میں نے طلاق نہیں دی ،میری بہن خود گواہ ہے،ان کے شوہر نے انہیں تین دفعہ طلاق دی ہے ،طلاق دینے کےبعد ہم ان کے گھر گئے اور اس وقت محمد نواز  سے وجہ پوچھی،اس نے میری بہن کو کہا  مجھ سے غلطی ہوگئی،میں غصے میں تھا،اب تم نہیں جاو،ہم اپنی بہن اپنے گھر لے آئے،آپ حضرات سے گزارش ہے ہماری راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر واقعی شوہر نے طلاق کے الفاظ تین دفعہ کہے ہیں تواس کی بیوی پر تین طلاقین واقع ہوچکی ہیں ،دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوچکے ہیں ،اس کےبعد عورت اور مرد کا اکٹھے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گذار نا جائز نہیں،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر آپس میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ہے ۔

اگر بیوی نے شوہر سے طلاق کے یہ الفاظ خود سنے ہیں،لیکن اب شوہر غلط بیانی کرکےان الفاظ سے  انکار کررہا ہے تو ایسی صورت میں اولا شوہر کو خوفِ خدا دلا کر آخرت کے عذاب سے ڈرایا جائے اور اسے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ غلط بیانی کرکے ساری عمر حرام کاری میں مبتلا ہونے کے بجائے طلاق کا اقرار کرلے ،اگر شوہر اس پر آمادہ نہ ہو تو مہر معاف کرکے یا اپنی استطاعت کے مطابق کچھ مال وغیرہ دے کر یا عدالتی چارہ جوئی کرکے عورت خود کو اس سے آزاد کروائے،اگرچہ مذکورہ صورت میں شوہر کے لیے عورت سےیہ مال لینا جائز نہیں ہوگا۔

اگر وہ کسی بھی طریقے سے اس کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تب بھی  عورت اپنے اوپر طلاق کو واقع سمجھے،

میکے میں رہے اور ہر ممکن طریقے سے سابقہ شوہر کو اپنے قریب آنے سے باز رکھے،قانونی طور پر اپنے تحفظ کے

لیے عدالت کے ذریعہ سے خلع بھی لے سکتی ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية" (1/ 354):

" والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها". 

"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر "(1/ 441):

" وفي التتارخانية وغيرها سمعت المرأة من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها إلا بقتله لها قتله بالدواء ولا تقتل نفسها وقيل لا تقتله وبه يفتى وترفع الأمر إلى القاضي فإن لم تكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه لكن إن قتلته فلا شيء عليها".

"رد المحتار" (3/ 251):

" والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله".

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

28/ربیع الاول1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب