03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
”نکاح ختم ہوگیا ہے “ کہنے سے طلاق کاحکم
81263طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرے شوہراکثرماضی دہراتے رہتے ہیں اورمیں ان کوماضی بھول جانے کاکہتی ہوں،جس پروہ کہتے ہیں کہ اس طرح نکاح بھی ماضی میں ہواتھا،نکاح بھی ختم ہوگیاہے،کل رات غصہ میں تھے،گالیاں دے رہے تھے،اس طرح یہ بات دوبارہ دہرائی کہ نکاح بھی ختم ہوگیاہے،میں نے کہاوہ کیسے؟کہنے لگے ظاہرسی بات ہے کہ ماضی کانکاح ہے،ماضی میں ہواتھا،ختم ہوگیاہے،میں نے پوچھاکیاآپ مجھے چھوڑناچاہتے ہیں؟کہنے لگے:جی ہاں،لیکن طلاق کے کاغذات تمہارے گھر پر خود لیکرآؤں گا،محلہ میں باآوازبلنددوں گا،ساتھ میں تمہاری آڈیواورویڈیوبھی دکھاؤں گا،مفتی صاحب میرے شوہربہت کثرت سے جھوٹ بولتے ہیں،عدالت میں اپنابیان پیسہ دلواکربدلوادیاتھا،قرآن پرہاتھ رکھ کرقسم کھاتے ہیں کہ ایسانہیں ہوگا،پھراپنابیان بدل دیتے ہیں،جھوٹ بولتے ہیں ،آئندہ ایسانہیں ہوگا،واپس آجاؤ،پھراپنی بات سے مکرجاتے ہیں،کہتے ہیں کہ اللہ مجھے سزادیں گے اورمیں اپنی قسم توڑرہاہوں ،اس سے پہلے بھی محلہ والوں کے سامنے قرآن پرہاتھ رکھ کرقسم کھائی کہ میں اس کوکوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا،پھراینٹ اٹھاکرمجھے مارنے بھاگے تولوگوں نے جان بچائی ،مجھے یہ معلوم کرناہے کہ ان کاکہناکہ نکاح ختم ہوگیا توکیااس طرح کہنے سے نکاح ختم ہوگیاہے یانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ کنائی الفاظ میں سے ہے،اگرشوہرنے طلاق کی نیت سے بولاہے توایک طلاق بائن ہوچکی ہے اورآپ کانکاح ان سے ختم ہوچکاہےاوراگرطلاق کی نیت نہیں تھی توطلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

فی الفتاوى الهندية (ج 8 / ص 325):

 ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى

وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 9 / ص 375):

 ولو قال : لا نكاح بيننا يقع الطلاق ، والأصل أن نفي النكاح أصلا لا يكون طلاقا بل يكون جحودا ونفي النكاح في الحال يكون طلاقا إذا نوى وما عداه فالصحيح أنه على هذا الخلاف قيد بالنية لأنه لا يقع بدون النية اتفاقا لكونه من الكنايات ولا يخفى أن دلالة الحال تقوم مقامها حيث لم يصلح للرد ، والشتم ويصلح للجواب فقط وقدمنا أن الصالح للجواب فقط ثلاثة ألفاظ ليس هذا منها فلذا شرط النية للإشارة إلى أن دلالة الحال هنا لا تكفي۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

   ۲۴/صفر ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب