03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پیشاب کی نالی لگنے کی صورت میں وضو کاحکم
81050جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

جس مریض کوپیشاب کی نالی لگی ہوتواس کے وضو وغیرہ کاکیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 نالی والا کیتھیٹر(Catheter) عام طورپردوطرح کی ہوتی ہیں:

۱۔ نالی والی کیتھیٹر(Foleys Catheter):

یہ کیتھیٹر پانی کے پائپ کی طرح بالکل باریک نالی کی صورت میں ہوتا ہے ،جو پیشاب کی جگہ میں اندر داخل کرکے مثانے تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس طرح  مریض  عمومی طورپرپیشاب روکنے کی طاقت نہیں رکھتا،کیونکہ جب Catheter اور نالی مریض کو لگائی جاتی ہے(چاہے مرد کو لگائی جائے یا عورت کو)تو نالی اور مثانہ آپس میں جڑ جاتے ہیں ، کیونکہ کیتیھٹر کا جو پائب لگایا جاتا ہے، اس کا سرا مثانے کے بالکل نچلے حصے میں ہوتا ہے، اس لیے جیسے ہی پیشاب مثانے میں آتا ہے،اس نالی کے ذریعے خود بخود بیگ میں جمع ہوجاتا ہے، لہٰذامریض اپنا پیشاب پرقادر نہیں ہوتا ، بلکہ جیسے جیسے پیشاب مثانے میں جمع ہوتا رہے گا، فوراًہی خود بخود نالی کے ذریعے بیگ میں جمع ہوجائےگا،چنانچہ کیتھیٹرلگنے کے بعد مریض اگر نماز پڑھنا چاہے، تو نماز کے دوران بھی اس کا پیشاب آتا رہتا ہے ، بند نہیں ہوتا۔

 اس کاشرعی حکم یہ ہے کہ اس صورت میں نالی والا کیتھیٹر(Catheter) لگانے کے بعد وہ شخص شرعاً معذورہے،جس کا حکم یہ ہے کہ ایسا شخص ہر فرض نماز کے وقت میں نیاوضوکرلے، پھر اس وضو سے اس وقت کے اندر فرض نما ز کے ساتھ سنتیں اورنوافل بھی ادا کرسکتا ہے ،(اگر چہ اس دوران پیشاب نکلتا رہے) پیشاب نکلنے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا،اگرنمازکاوقت ختم ہوجائے یااس کے علاوہ کوئی اورناقض وضوپیش آجائے توپھروضوٹوٹےگا،ورنہ نہیں۔

۲۔غبارے والی کیتھیٹر(Condom Catheter):

یہ غبارہ کی طرح ہوتا ہے، جو کنڈوم (Condom)کی طرح مرد کے عضو تناسل پر چڑھا دیا جاتا ہے، اور اس کے آگے چھوٹی سی نالی ہوتی ہے، جس میں سوراخ کر کے بیگ لگادیا جاتا ہے،اس صورت میں اگرمریض ہوش وحواس میں ہوتو پیشاب روکنے کی قدرت ہوتی ہے،پیشاب کوکنٹرول کرنااس کے اختیارمیں ہوتاہے،اس کوعمومی طورپرمریض  خود بھی باآسانی اتارسکتاہے۔

اس کاشرعی حکم یہ ہے کہ نماز کے لیےاس catheterکو اتارکراستنجاء کرے، اور پھر باقاعدہ وضو کرکے نماز  اداکرے،تاہم اگر مرض اس قسم کاہے کہ مریض کے لئے خوداتارنا مشکل ہےاور کوئی ایسا فرد بھی موجود نہیں ہے جس کے لیے اس کا ستر دیکھنا جائز ہو ،جیسے اس کی بیوی توایسی صورت میں کنڈوم کیتھیٹر کے ہوتے ہوئے بھی مریض نماز ادا کرسکتا ہے، البتہ اس دوران پیشاب کے قطرے نکلنے سے وضو ٹ جائے گا،( بشرطیکہ وہ پیشاب کی تکلیف کی وجہ سے شرعی معذور نہ ہو)

حوالہ جات

فی الدرالمختار(:(305/1

)وصاحب عذر من به سلس) بول....أو انفلات ريح....(إن استوعب عذره تمام وقت صلاةمفروضة)بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.(وحكمه الوضوء).... (لكل فرض ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

        ۲۸/محرم الحرام۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب