03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے بعد عدالت کے ذریعے ساتھ رہنے کا حکم
81712طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین صریح طلاقیں دی۔برادری کے معززلوگوں نے بڑے مجمع کے سامنے اسے بلواکر پوچھا کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے؟اس نے جوابا کہا کہ ہاں دی ہے۔پھر مجمع میں موجود عالم صاحب نے پوچھا کہ ایک دو ياتین کتنی طلاق دی ہیں؟ تو اس نے تین طلاق دینے کا اقرار کیا۔جس پر معززین نے علماء کرام سے پوچھ کر عدت کاخرچہ پچاس ہزا روپے ادا کرنے کا مطالبہ کیا، جسے اس شخص نے بخوشی قبول کرلیا۔چند ہفتےگزرنے کے بعداس شخص نے سابقہ  بیوی سے رابطہ کیا ،بیوی کے بھائی بھی راضی ہوگئے اور انہوں نے عدالت میں درخواست دی کہ میری بیوی کو فلاں فلاں افراد نے مجھ سے روک رکھا ہے،جس پر جج نےدونوں کو ساتھ رہنے کا حکم دیا ۔پولیس کی معاونت سے بیوی کو شوہر کےپاس بھجوادیا گیا۔اب میاں بیوی کےایک ساتھ رہنے کا کیا حکم ہے،نیز جو لوگ عدالت کی کاروائی میں ساتھ شریک رہے ان کا کیا حکم ہے ؟کیا ان لوگوں کابائیکاٹ کیا جاسکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق شخصِ مذکور نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد برادری کے سامنے بھی تین طلاق کا اقرار کیا ہے، لہذا تین طلاقیں واقع ہونے کی وجہ سے حرمتِ مغلظہ ثابت ہو کر فریقین کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہے٬ اب نہ تو رجوع ہوسکتا ہے، نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ البتہ اگر یہ عورت عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی شخص کے ساتھ نکاح کرلے اور وظیفہٴ زوجیت(ہمبستری)ادا کرنے کے بعدوہ شخص اپنی مرضی سے اسے طلاق دیدےیا اس شخص کا انتقال ہوجائےتو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد اگر یہ عورت اپنے سابق شوہر کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے تو فریقین باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، ورنہ نہیں۔

جہاں تک عدالت کے دوبارہ رجوع کا حکم دینے کا تعلق ہے تو یہ بات یاد رہے کہ تین طلاق کے بعد عورت سے اسی حالت میں رجوع اور دوبارہ نکاح کے عدمِ جواز پر مذاہبِ اربعہ یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا اتفاق ہے اور پاکستانی قانون میں بھی قرآن وسنت کی تشریح امت کے مسلمہ فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں کرنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے، لہذا شرعی اعتبار سے مذکورہ عدالتی فیصلہ کی وجہ سے بھی شخصِ مذکور کو بغیر حلالہ کے رجوع اور نکاح کا حق حاصل نہیں ہے۔ باقی جو لوگ عدالت کی اس کاروائی یعنی عدالت میں مسئلہ لے جانے اور رجوع کے جواز کے حق میں دلائل وغیرہ دینے میں شریک رہے ہیں وہ بھی گناہ گار ہوئے ہیں، ان پر لازم ہے کہ میاں بیوی کے درمیان فوری طور پر علیحدگی کروائیں اور اپنے سابقہ فعل پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سےتوبہ واستغفار کریں اور اگر یہ حضرات اپنے اس فعل پر نادم نہ ہوں تو تنبیہ کے طور پر ان سے قطع تعلقی بھی کی جا سکتی ہے۔

نیز واضح رہے کہ عدالت کا فیصلہ ہمارے سامنے نہیں ہے کہ عدالت نے کس بنیاد پر رجوع کا حق دیا ہے؟ممکن ہے غلط بیانی کر کے عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ لے لیا ہو، اس لیے عدالت کے فیصلہ کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسی: (133/6، ط: دار المعرفہ، بیروت:

أن من أقر بطلاق سابق یکون ذٰلک إیقاعا منہ في الحال؛ لأن من ضرورۃ الاستناد الوقوع في الحال، وھو مالک للإیقاع غیر مالک للاستناد.

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»

             صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:

وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

 سنن أبي داود (2/ 259) المكتبة العصرية، صيدا – بيروت:

حدثنا أحمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن حسين بن واقد، عن أبيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء، ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن} [البقرة: 228] الآية، " وذلك أن الرجل كان إذا طلق امرأته، فهو أحق برجعتها، وإن طلقها ثلاثا، فنسخ ذلك، وقال: {الطلاق مرتان} [البقرة: 229]

الإقناع في مسائل الإجماع (2/ 36) علي بن محمد بن عبد الملك الكتامي الحميري الفاسي، أبو الحسن ابن القطان (المتوفى: 628هـ) الفاروق الحديثة للطباعة والنشر:

2340 - وقول ابن عباس للمطلق مائة تطليقة: طلقت منك بثلاث، وسبع وتسعون اتخذت آيات الله بها هزوا. وقول ابن مسعود للمطلق ثماني تطليقات: قد بانت منه، كما أفتى إلي آخر كلامه ليس في الخبرين ذكر البتة، وإنما فيهما وقوع الثلاث مجتمعات ولزومخا ولا خلاف بين أئمة الفتوى بالأمصار فيه وجمهور السلف، والخلاف فيه شاذ تعلق به أهل البدع ومن لا يلتفت لشذوذه عن جماعة، لا يجوز على مثلها التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة. وكان عمر إذا أتي برجل طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد أوجعه ضربا وفرق بينهما ونحوه، وعن عمران بن حصين قال: أثم بربه وحرمت عليه امرأته، وقاله ابن عمرن وما أعلم لهم مخالفا من الصحابة.

2341 - وأجمع أهل العلم إذا طلق امرأته ثلاثا وهو صحيح ثم مات أو ماتت في عدتها أو بعد العدة لم يتوارثا. ولا خلاف بين أهل العلم أنها إن كانت مدخولا بها فقال لها: أنت طالق أنت طالق أنت طالق سكت أو لم يسكت فيما بينها أنها طالق ثلاثا.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8/ 3147) دار الفكر، بيروت،لبنان:

 وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما، وقد هجر نساءه شهرا وهجرت عائشة ابن الزبير مدة، وهجر جماعة من الصحابة جماعة منهم، وماتوا متهاجرين، ولعل أحد الأمرين منسوخ بالآخر.         

قلت: الأظهر أن يحمل نحو هذا الحديث على المتواخيين أو المتساويين، بخلاف الوالد مع الولد، والأستاذ مع تلميذه، وعليه يحمل ما وقر من السلف والخلق لبعض الخلف، ويمكن أن يقال الهجرة المحرمة إنما تكون مع العداوة والشحناء، كما يدل عليه الحديث الذي يليه، فغيرها إما مباح أو خلاف الأولى.

محمد نعمان خالد

 دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

 20/ربیع الثانی 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب