| 81823 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھانے پینے کے مسائل |
سوال
ہمارے گاؤں میں زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش حرام ہے اور اس کا اقرار وہ خود بھی کرتے ہیں۔ان میں کئی لوگ قریبی رشتہ دار اور دوست بھی ہیں۔اب ہمیں معاشرتی معاملات مثلاً غم یا خوشی کی تقریبات میں انتہائی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔اگر ان تقریبات میں شرکت نہیں کرتے تو پھر وہ خفا ہوتے ہیں اور کبھی کبھی تو معاشرتی طور پر بائیکاٹ کی دھمکیاں دیتے ہیں۔اگر تقریبات میں شرکت کریں تو پھر کھانا کھانےکی التجاء کرتے ہیں اور نہ کھانے پر افسردہ ہوتے ہیں۔ایسے خاندانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔لہٰذااس صورت میں شریعت مطہرہ کے حوالے سے ہم ان لوگوں کے ساتھ معاشرتی معاملات کس طرح نبھائیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سائل کے گاؤں کے لوگوں کا اگر کل مال حرام ہے تو ان کی دعوت قبول کرنا جائز نہیں اور اگران کا مال حرام اور حلال دونوں پر مشتمل ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
1:حلال اور حرام مال دونوں الگ الگ ہوں،تو اس صورت میں دونوں میں سے ہر ایک پر اسی کے احکام جاری ہوں گے،یعنی اگر حلال مال سے دعوت کرے تو اس کو قبول کرنا جائز ہے اور اگر حرام مال سے دعوت کرے تو شرکت کرنا جائز نہیں ۔ اسی طرح اگرشرکت کرنے والے کو یہ تو معلوم ہو کہ دعوت کرنے والے کا مال حرام اور حلال پر مشتمل ہے، لیکن اس بات کا علم نہ ہو کہ یہ دعوت حلال مال سے کی گئی ہے یا حرام سے تو اس صورت میں غلبہ کا اعتبار ہوگا،اگر دعوت کرنے والے کا اکثر مال حرام ہو تو اس میں شرکت کرنا جائز نہیں اور اگر اکثر مال حلال ہو تو شرکت کرنا جائز ہے۔
2:حلال اور حرام مال دونوں اس طرح مخلوط ہوں کہ اس میں تمییز نہ ہوسکے اور یقین سے یہ معلوم ہو كہ اس مخلوط مال میں حرام مال كا حصہ زیادہ ہےتو اس صورت میں بھی کل مال حرام کے حکم میں ہےاوراس طرح کی دعوت میں شرکت کرنا جائز نہیں،البتہ اگر مخلوط مال میں حلال مال زیادہ ہو تو کل مال حلال كے حكم میں ہےاوراس میں شرکت کرنا جائز ہے۔
حوالہ جات
الفتاوی الھندیة( 342:5)
أھدی إلی رجل شیئا أو أضافہ إن کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس إلا أن یعلم بأنہ حرام، فإن کان الغالب ھو الحرام ینبغي أن لا یقبل الھدیة ولا یأکل الطعام إلا أن یخبرہ بأنہ حلال ورثتہ أو استقرضتہ من رجل کذا فی الینابیع۔ ولا یجوز قبول ھدیة أمراء الجور؛لأن الغالب في مالھم الحرمة إلا إذا علم أن أکثر مالہ حلال بأن کان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس بہ ؛لأن أموال الناس لا تخلو عن قلیل حرام فالمعتبر الغالب، وکذا أکل طعامھم کذا فی الاختیار شرح المختار۔
مجمع الانھر(2:529)
"آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط"۔
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
29/ربیع الثانی/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


