03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم بیوہ اور اس کی مرحوم بیٹی کے ورثہ کی تعیین اوران میں ترکہ کی تقسیم
82287میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 ایک بیوہ عورت نے کسی کے ساتھ انویسٹمنٹ کی نصف نصف پرافٹ پر اور اس بیوہ کا انتقال ہوگیا،پھر یہ پرافٹ اس کی کنواری بیٹی کو ملتا رہا، حال ہی میں اس کا بھی انتقال ہوگیا،اس کا چچا اورپھوپھی بھی موجود ہیں اوربیوہ کے بھائی اور بہن بھی ہیں ۔ میراث کیسے تقسیم ہوگی؟ بینوا توجروا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اول بالترتیب مرحوم بیوہ اور اس کی مرحوم بیٹی  میں سے ہر ایک کے ترکہ سے اس کےکفن ودفن کے اخراجات ادا کئے جائیں گے، بشرطیکہ کسی وارث نے اپنی طرف سے ادا نہ کئے ہوں، اس کے بعد اس کے ذمہ واجب  حقوق اگر ہوں تو ان کو ادا کیا جائے گا،( البتہ حقوق اللہ مثلا نمازوں،روزوں کا فدیہ دینے کی شرط یہ ہے کہ میت نےاپنی زندگی میں ادائیگی کی وصیت کی ہو، ورنہ ادائیگی لازم نہیں،لیکن اگر کوئی وارث اپنی ذاتی ملکیت سے ادا کردے تو یہ بھی جائز ہے)اس کے بعد اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی تک اس کو پورا کیا جائے گا۔

 اس سب کچھ کےبعدمرحوم بیوہ کا ترکہ اس کی مرحوم کی بیٹی اور  بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔( بیٹی کو کل ترکہ کا نصف(50 فیصد)،جبکہ باقی(50 فیصد) ترکہ بہن میں بھائیوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ بھائی کو بہن کا دگنا ملے گا)اور بیوہ کی  مرحوم بیٹی کا حصہ مع اس کےدیگرمتروکہ مملوکہ جائیدادبطورترکہ اس کے چچا کوملےگا۔(اورپھوپھی کوکچھ نہیں ملے گا۔)

واضح رہے کہ درج بالا تقسیم سؤال میں مذکور ورثہ کی صورت میں ہے، مزید ورثہ ہونے کی صورت میں مذکور جواب کالعدم شمارہوگا۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۴جمادی الثانی۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب