03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نصف آستین والی شرٹ میں نماز ادا کرنے کاحکم
81367نماز کا بیاننما زکے جدید مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز کی حالت میں آستین کا اوپر کرنا ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن آج کل جو ہاف آستین والی شرٹس آرہی ہیں وہ تو ایسا لباس ہے جو تقریبات اور اہم مجالس میں بھی اہتمام سے پہنا جاتا ہے، اور معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا ، نیز اس میں بظاہر باقاعدہ تشمیر اور کف بھی نہیں پایا جاتا، بلکہ تیار ہی ایسا ہوتا ہے، اور شہروں میں خصوصاً ابتلاء بھی بہت ہے، تو کیا اس لباس میں نماز پڑھنا کراہت میں داخل ہے یا نہیں ؟ نیز اگر کسی نے آستین کہنیوں سے نیچے تک چڑھائے ہوں، وہ بھی کراہت میں داخل ہے ؟ رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہاف آستین والی شرٹ پہن  کر نماز پڑھنے میں کراہت نہیں ہے، حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ نے احسن الفتاویٰ میں لکھا ہے کہ :

''آدھی آستیں والا کرتہ پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں، البتہ اگر اس کو ثیابِ بذلہ میں شمار کیا جاتا ہو اور اس کو عام مجلس میں معیوب سمجھا جاتا ہو تو مکروہ ہے۔''

البتہ جو شخص قمیص پہنے اور آستیں اوپر چڑھا  کر نماز پڑھے تو مکروہ ہے۔

حوالہ جات

صحيح مسلم للنيسابوري (2/ 52):

حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد - وهو ابن جعفر - حدثنا شعبة عن عمرو بن دينار عن طاوس عن ابن عباس عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « أمرت أن أسجد على سبعة أعظم ولا أكف ثوبا ولا شعرا ».

الدر المختار (1/ 640):

"(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كم."

محمد جمال ناصر

دار الافتاءجامعہ الرشیدکراچی

12/ربیع الثانی/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمال ناصر بن سید احمد خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب