03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کوبچہ/ بچی کی پرورش سے محروم کرنے کا حکم
79528طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

کن حالات میں عورت(ماں ، نانی وغیرہ) کوبچہ/ بچی کی پرورش سے محروم کیا جا سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پرورش کرنے والی خاتون، والدہ ہو یا والدہ کے علاوہ نانی، دادی، خالہ وغیرہ ، کے لیے درج ذیل آٹھ شرائط ہیں:

  1. آزاد ہو ، لہذا باندی کو پرورش کا حق حاصل نہیں۔
  2. بالغہ ہو، لہذا نابالغ بچی کو پرورش کا حق حاصل نہ ہوگا۔
  3. عقل و شعور رکھتی ہو، لہذا مجنونہ اور پاگل عورت کو پرورش کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
  4. زیرِ پرورش بچہ /بچی  کی تربیت کے سلسلے میں اس پر اطمینان کیا جاسکتا ہو؛ تاکہ وہ اس کے پاس ہلاک نہ ہوجائے، مثلاً وہ گانے یا نوحے کو بطورِ پیشہ اختیار کرتی ہو اور  گھر سے باہر نکل جاتی ہو ، جس سے بچے/ بچی کی ہلاکت کا خوف ہو۔
  5. زیرِ پرورش بچے کی پرورش کرنے پر اسے قدرت و اختیار حاصل ہو، لہذا اگر وہ ایسی بیماری کا شکار ہے جس سے بچے کی ضروریات کو پورا کرنا ممکن نہ ہو تو وہ پرورش کی اہل نہ ہوگی۔
  6. وہ مرتدہ نہ ہو، یعنی دینِ اسلام قبول کرنے کے بعد اسے چھوڑنے والی نہ ہو، کیوں کہ مرتدہ کی سزا یہ ہے کہ اسے قید کیا جائےاور قید میں پڑی خاتون بچے کی پرورش نہیں کرسکتی۔
  7. اس عورت نے زیرِ پرورش بچے کے غیر محرم سے شادی نہ کی ہو، اگر عورت نے بچے کے غیر محرم سے نکاح کیا ہو تو س اسے پرورش کا حق ختم ہوجائے گا۔
  8. پرورش کرنے والی خاتون بچے کو اس شخص کے گھر میں نہ رکھے جو اسے ناپسند کرتا ہو۔
حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 555):

قال الرملي: ويشترط في الحاضنة أن تكون حرة بالغة عاقلة أمينة قادرة، وأن تخلو من زوج أجنبي، وكذا في الحاضن الذكر سوى الشرط الأخير، هذا ما يؤخذ من كلامهم.

شرح الأحكام الشرعية في الأحوال الشخصية، (3 / 52):

"والحاضنة يشترط فيها ثمانية شروط:

أولاً: أن تكونَ حرَّةً؛ لأن الرقيقةَ مشغولةٌ بخدمة سيدها؛ فلايمكنها القيام بتربيّة الولد.

ثانياً: أن تكون بالغةً؛ لأن القاصرةَ محتاجةٌ إلى مَن يكفلها؛ فكيف تكفل غيرها.

ثالثاً: أن تكون عاقلةً؛ لأن المجنونةَ لاتحفظ الولد، بل يخشى عليه منها الهلاك.

رابعاً: أن تكون أمينةً على المحضون وتربيته بحيث لايضيع الولد عندها بسبب اشتغالها عنه بالخروج إلى ملاهي الفسوق، بأن تكون مغنَّيةً أو نائحةً،

خامساً: أن تكون قادرةً على خدمته، فلو كان بها مرضٌ يعجزها عن القيام بمصالحه لم تكن أهلاً للحضانة.

سادساً: أن لاتكون مرتدَّةً: أي خارجةً عن دين الإسلام بعد أن اعتنقته؛ لأن جزاءها الحبس حتى تسلم، ومَن كانت حالتها هكذا فلاتقدر على خدمة الولد.

سابعاً: أن لاتكون متزوِّجةً بغير رحم محرَّم للمحضون؛ لأن الأجنبيَّ ينظر إليه شزراً،

ثامناً: أن لاتمسكَه الحاضنةُ في بيت مَن يبغضه ويكرهه؛ لأن إمساكَها إيّاه عنده يترتّب عليه ضرر الولد وضياعه، والمقصود من الحضانة حفظ الولد والقيام بخدمته".

 محمد جمال ناصر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

23/رجب الخیر/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمال ناصر بن سید احمد خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب