03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
   چھوٹی بچی کی تربیت کا حکم
79525طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

خالد حسین کی بہن کی 8  سال پہلے اپنے کزن کے ساتھ شادی ہوئی تھی۔ ان کی ایک  بیٹی پیدا ہوئی۔ چار سال بعد اس کا شوہر فوت ہوگیا۔اب اس لڑکی(خالد حسین کی بہن) کی شادی کہیں اور جگہ پر ہوگئی ہے ،تو چھوٹی بچی کی تربیت کا زیادہ حق کس کا ہے نانی یا دادی کا؟ بچی کے ننیھال میں اس کی تین پھوپھو بھی موجود ہیں وہ اس بچی کی مامی اور پھوپھو بنتی ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد کے انتقال کے بعدبچی کی پرورش کا حق سب سے پہلے اس کی  ماں کو حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اگربچی کی ماں کسی ایسے شخص سے نکاح کرلے جو بچی کے حق میں نا محرم ہو تو اس کی پرورش کا حق ساقط ہوکر بچی کی نانی کو مل جاتا ہے۔چنانچہ بچی کے حق پرورش کی درج ذیل ترتیب ہے۔

ماں کے بعد نانی، اس کے بعد دادی، پھر حقیقی بہن، اس کے بعد ماں شریک بہن، پھر باپ شریک بہن، اس کے بعد حقیقی بہن کی بیٹی، اس کے بعد ماں شریک بہن کی بیٹی اس کے بعد حقیقی خالہ، اس کے بعد ماں کے اعتبار سے خالہ، اس کے بعد باپ کے اعتبار سے خالہ اس کے بعد باپ شریک بہن کی بیٹی، اس کے بعد حقیقی بھائی کی بیٹی پھر ماں شریک بھائی کی بیٹی، اس کے بعد باپ شریک بھائی کی بیٹی، اس کے بعد حقیقی پھوپھی، پھر ماں کے اعتبار سے پھوپھی، پھر باپ کے اعتبار سے پھوپھی، پھر ماں کی خالہ، اس کے بعد باپ کی خالہ اس کے بعد ماں اور باپ کی پھوپھیاں، اس کے بعد وراثت کی ترتیب کے مطابق عصبات کو حق پرورش حاصل ہوگا، چنانچہ سب سے پہلے باپ کو یہ حق حاصل ہوگا۔ اس کے بعد دادا کو، پھر حقیقی بھائی کو یہ حق ملے گا آخر تک ..... عصبات کی ترتیب کے مطابق، اور عصبات کے نہ ہونے کی صورت میں یہ حق ذوی الارحام کی طرف منتقل ہو جائے گا، جس کی تفصیل فقہ کی کتب میں موجود ہے۔

بچہ/ بچی کا حقِ پرورش جس کےحصہ میں آئےتو اگر وہ  اس سے انکار کردے تو اس کو بچہ/بچی  لینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، بلکہ  حقِ پرورش بالترتیب آگے منتقل ہوگا۔ مثلا اگر ماں بچی  لینے سے انکار کردے تو ا س پر جبر نہیں کیا جائے گا ۔البتہ اگر بچی کا ماں کے سوا کوئی ذی رحم محرم نہ ہو  تو اس وقت ماں کو  بچی کی پرورش پر مجبور کیا جائے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 562):

(ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين، ثم لأم ثم لأب، ثم بنت الأخت لأب ثم بنات الأخ (ثم العمات كذلك) ثم خالة الأم كذلك، ثم خالة الأب كذلك ثم عمات الأمهات والآباء بهذا الترتيب؛ ثم العصبات بترتيب الإرث، فيقدم الأب ثم الجد ثم الأخ الشقيق، ثم لأب ثم بنوه كذلك، ثم العم ثم بنوه. وإذا اجتمعوا فالأورع ثم الأسن، اختيار، سوى فاسق ومعتوه وابن عم لمشتهاة وهو غير مأمون، ثم إذا لم يكن عصبة فلذوي الأرحام، فتدفع لأخ لأم ثم لابنه ثم للعم للأم ثم للخال لأبوين ثم لأم برهان وعيني بحر،

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 482):

 (ومن لها) حق (الحضانة لا تجبر عليها) إن أبت لاحتمال أن تعجز عن الحضانة إلا إذا تعينت بأن لا يأخذ الولد ثدي غيرها أو لا يكون له ذو رحم محرم سواها فتجبر على الحضانة إذ الأجنبية لا شفقة لها عليه كما في الدرر.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 368):

 (ولا تجبر الأم عليه) لأنها عست تعجز عن الحضانة

محمد جمال ناصر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

23/رجب الخیر/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمال ناصر بن سید احمد خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب