| 81254 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
بیوی شوہر کے انتقال کے بعد دوسری جگہ شادی کر لے تو کیا اسے پہلے شوہر کی میراث میں سے حصہ ملےگا؟
میراث ملنے کی صورت میں اگر میت کے بیٹے، بیٹیاں ہوں تو بیوی کو کتنا حصہ دیا جائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میت کے انتقال کے وقت جو ورثاء حیات ہوں ،ان میں میت کی میراث تقسیم کی جاتی ہے۔ بیوہ عدتِ وفات کے دوران میت کی بیوی شمار ہوتی ہے، لہٰذا اسے میت کی میراث میں سے حصہ دیا جائے گا۔بیوہ عورت عدت کے بعد دوسرا نکاح کرلے تو پہلے شوہر کے ترکہ سے اس کا حصہ وراثت ختم نہیں ہوگا۔
میت کی بیٹے، بیٹیاں ہونے کی صورت میں بیوہ کو میت کے ترکے کا آٹھواں حصہ(ثمن) یعنی 12.5 فیصد ملے گا۔
حوالہ جات
{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم} [النساء: 12]
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22/صفر الخیر/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


