03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرام مال سے کیے گئے صدقہ کا حکم
81487جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

سودی رقم سے کیے گئے خیراتی کاموں کا کیا حکم ہے، مثلاً: میں نے سودی بینک کی ملازمت کے دوران اپنی تنخواہ میں سے مختلف اوقات میں مساجد کو صفیں، قالین، جائے نماز، پنکھے، نماز پڑھنے کے لیے کرسیاں وغیرہ خرید کر صدقہ کی ہیں اور  بسااوقات  نقد رقم بھی عطیہ کی ہے، جس کی مالیت تقریباً 2 لاکھ سے اوپر ہو گی، یہ تمام کام ثواب کی نیت سے کیے تھے، اب میرے لیے کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حرام مال صدقہ کرتے وقت ثواب کی نیت کرنا جائز نہیں، اگر کسی نے  لا علمی میں  کرلی ہو تو  توبہ و استغفار کرے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 99):

 "والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه "

عدنان اختر

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

24؍ربیع الاول؍۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عدنان اختر بن محمد پرویز اختر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب