03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحومہ والدہ کی طرف سے قرض کی ادائیگی کا حکم
81507متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ والدہ  کے فوت ہونے کے بعدان کے ذمے جو قرض ہے  وہ والدہ کے مال سے ادا کیا جائے گا یا نہیں ؟

والدہ کی ملکیت میں اتنا مال نہ ہو تو اولاد قرض ادا کرسکتی ہے؟ کیا ان کو اس کا ثواب ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں والدہ کے انتقال کے بعد  ان کے ترکہ  میں سے سب پہلے  تجہیزوتکفین کے اخرجات نکالنے کے بعد  جو کچھ بھی  بچ جائے اس سے قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اس کے بعد اگر مرحومہ نے کسی غیرِ وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ترکہ کے ایک تہائی حصے سے اداکیا جائے، باقی ماندہ ترکہ   ورثا  ء  میں تقسیم کیا جائے گا۔اگر مرحومہ کے  ترکہ  میں اتنا مال نہ ہو  جس سے قرض ادا کیا جاسکے تو  اولاد  اپنے مال سے قرض ادا کردے تو قرض کی ادئیگی اور  والدہ جیسے عظیم رشتے کے ساتھ صلہ رحمی کرنے پر ان شاء اللہ دگنے  اجروثواب کے مستحق ہوں گے۔

حوالہ جات

رد المحتار :(21/ 102):

( قوله : عن ميت مفلس ) هو من مات ولا تركة له ولا كفيل عنه بحر .

( قوله : إلا إذا كان به كفيل أو رهن ) استثناء من قوله ساقط ، ولو حذف " ساقط " أولا ثم علل بقوله : لأنه يسقط بموته ثم استثنى منه لكان أوضح يعني أن الدين يسقط عن الميت المفلس إلا إذا كان به كفيل حال حياته أو رهن .

      عدنان اختر

  دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی 

  3/ربیع الثانی/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عدنان اختر بن محمد پرویز اختر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب