| 81601 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلے میں کہ:
ایک شخص اپنے سسر کو فون کر کے کہتا ہے کہ " آپ کی بیٹی فارغ ہو گئی ہے آ کر لے جاؤ "پھر کہتا ہے کہ" فارغ کر دی ہے آ کر لے جاؤ "اس کے علاوہ اس نے کوئی بھی طلاق کے الفاظ نہیں کہے،شوہر نے نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعدکبھی فون کیا۔
1. شرعی رو سے طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں ؟
2. اگر طلاق واقع ہوگئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
تنقیح :شوہر نے بذریعہ فون بتایا کہ ہماری لڑائی ہوئی تھی، بیوی کو میں سمجھا رہا تھا ، وہ بات نہیں سمجھ رہی تھی ،تو میں نے غصہ کی حالت میں اپنے سُسر کو فون کرکے مذکورہ الفاظ کہے ،البتہ ان الفاظ سے میری طلاق کی نیت نہیں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ "فارغ" کا لفظ ایسا کنایہ ہے، جو صرف جواب کا احتمال رکھتا ہے، اور اس قسم کے کنایہ الفاظ سے غصہ یا طلاق کے مذاکر ہ کے وقت بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
سوال میں ذکردہ صورت کے مطابق چونکہ شوہر نے یہ الفاظ غصہ کی حالت میں سُسر کو فون پر کہے ہیں، اس لیے ان الفاظ کے کہنے سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے، اور نکاح ختم ہوگیا ہے۔
لہذا اب اگر دونوں اپنی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں، تو عدت کے اندر یا عدت کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ آپس میں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 374):
" الفصل الخامس في الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة ثم الكنايات ثلاثة أقسام ما يصلح جوابا لا غير أمرك بيدك اختاري اعتدي وما يصلح جوابا وردا لا غير اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري وما يصلح جوابا وشتما خلية برية بتة بتلة بائن حرام.والأحوال ثلاثة حالة الرضا وحالة مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها وحالة الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية."
بدائع الصنائع (3/ 102):
" قال إن قوله خليت في حال الغضب وفي حال مذاكرة الطلاق يكون طلاقا حتى لا يدين في قوله إنه ما أراد به الطلاق."
الدر المختار (3/ 296):
باب الكنايات ( كنايته ) عند الفقهاء ( ما لم يوضع له ) أي الطلاق ( واحتمله وغيره ( ف ) الكنايات ( لا تطلق بها ) قضاء ( إلا بنية أو دلالة الحال ) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
عدنان اختر
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
13/ربیع الثانی /1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


