| 82542 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرےچار بچے ہیں، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ تینوں بیٹیوں کی شادی ہوچکی ہے، بیٹی بھی بڑی بیٹی کے ساتھ رہتا ہے۔ میری بیوی 2011ء میں بیمار ہوئی، میں نے بہت علاج کرایا، مگر صحت یاب نہیں ہوئی۔ میری بڑی بیٹی اور داماد 2012ء میں ان کو علاج کی خاطر اپنے ساتھ لے گئے، وہاں ایک سال بعد 2013ء میں اس کا انتقال ہوگیا۔
میں نے پچیس سال پہلے گھر بنایا جس میں میری بیوی کو اپنے والدین سے حصے میں ملنے والی کچھ رقم (تقریبا دو لاکھ) بھی خرچ ہوئی، یہ رقم زمین کی خریداری اور تعمیر دونوں میں خرچ ہوئی ہے، باقی سارے پیسے میرے تھے اور میں پانچ سال تک لوگوں کے قرضے چکاتا رہا۔ اب میری بڑی بیٹی حصے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ میری اہلیہ کی میراث میں میرا اور میرے بچوں کا کتنا کتنا حصہ بنتا ہے؟ میری اہلیہ کے والدین، دادا، دادی اور نانی کا انتقال اس کی زندگی میں ہوگیا تھا۔ میری اہلیہ پر کوئی قرض نہیں ہے، نہ ہی اس نے کوئی وصیت کی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں زمین کی خریداری اور اس پر مکان کی تعمیر میں آپ کی اور آپ کی اہلیہ کی جتنی جتنی رقم لگی تھی، اسی تناسب سے یہ مکان آپ دونوں کے درمیان مشترک ہے، مثلا اگر اس وقت زمین کی خریداری اور مکان کی تعمیر پر کل دس لاکھ خرچہ آیا تھا جس میں دو لاکھ آپ کی اہلیہ کے اور آٹھ لاکھ آپ کے لگے تھے تو اس مکان کا ایک حصہ آپ کی اہلیہ کا اور چار حصے آپ کے ہوں گے۔
اب آپ کی اہلیہ کے کے انتقال کے بعد اس کے حصے کو تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے کل بیس (20) حصے بنائے جائیں، اس میں سے پانچ (5) حصے آپ کو ملیں گے، چھ (6) حصے بیٹے کو اور تین، تین (3، 3) حصے تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ } [النساء: 11]
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ } [النساء: 12]
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
02/رجب المرجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


