03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زانی اور مزنیہ کا آپس میں نکاح کا حکم
82627نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایک لڑکا اور لڑکی  زناکرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں، اب دونوں کے گھر والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا اپس میں نکاح کیا جائے اور وہ دونوں  بھی نکاح  پر راضی ہے ،تو کیا ان کا اپس میں نکاح کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اس لڑکے اور لڑکی کا آپس میں نکاح  کرنا صحیح ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: قوله :(أو زنا)، أي وحل تزوج الموطوءة بالزنا أي الزانية. وللزوج أن يطأها بغير استبراء .وقال محمد :لا أحب له أن يطأها من غير استبراء، وهذا صريح في جواز تزوج الزانية.  (البحر الرائق:3/114)

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: وصح ‌نكاح ‌حبلى من زنى لا ‌حبلى من غيره، أي الزنى...لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا ،والولد له ولزمه النفقة.(الدر المختار:3/49)

   محمد مفاز

 دارالافتاء ،جامعۃ الرشید،کراچی

  3رجب 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مفاز بن شیرزادہ خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب