| 82627 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ ایک لڑکا اور لڑکی زناکرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں، اب دونوں کے گھر والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا اپس میں نکاح کیا جائے اور وہ دونوں بھی نکاح پر راضی ہے ،تو کیا ان کا اپس میں نکاح کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اس لڑکے اور لڑکی کا آپس میں نکاح کرنا صحیح ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: قوله :(أو زنا)، أي وحل تزوج الموطوءة بالزنا أي الزانية. وللزوج أن يطأها بغير استبراء .وقال محمد :لا أحب له أن يطأها من غير استبراء، وهذا صريح في جواز تزوج الزانية. (البحر الرائق:3/114)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: وصح نكاح حبلى من زنى لا حبلى من غيره، أي الزنى...لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا ،والولد له ولزمه النفقة.(الدر المختار:3/49)
محمد مفاز
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید،کراچی
3رجب 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مفاز بن شیرزادہ خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


