| 82761 | خرید و فروخت کے احکام | سلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل |
سوال
میرا نام سید احمد عدیل شعیب ہے۔ میں ایک ای کامرس کاروبار شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔ میرا منصوبہ ایک ایسی ویب سائٹ تیار کرنی ہے جس میں مختلف جیکٹس کے مختلف ڈیزائن پسند کرنے کے لیے دستیاب ہوں گے ۔مزید یہ کہ میرےکسٹمر زبھی اپنی پسند کے ڈیزائن فراہم کر سکیں گے ۔ تاہم، وہ اپنے ڈیزائن کے مطابق جیکٹس کو براہ راست خریدنے کی بجائے تیار کرنے کا آرڈر دیں گے۔ ہمارے پاس کوئی تیار انوینٹری (قابل فروخت مال )نہیں ہے۔ ہم اپنے گاہک سےجیکٹ کے آرڈر لیں گے اور پھر وہ جیکٹ کسی تیسرے فریق (مینو فیکچرر)سے تیار کروائیں گے جیسے ایک درزی جو لوگوں سے آرڈر لیتا ہے اور پھر اس کے موافق ان کے لیے کپڑے سلائی کرتا ہے۔
میرے اس کاروباری منصوبے میں میری" ٹارگٹ مارکیٹ "بین الاقوامی سطح پر خریدار ہوں گے، اس لیے میں 'کیش آن ڈیلیوری' کا آپشن نہیں دے سکتا۔ میرے کسٹمرز مجھے اپنی جیکٹس کے لیے پیشگی(ایڈوانس) ادائیگی کریں گے۔
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اسلام میں اس ماڈل کی اجازت ہے؟ اگر نہیں، تو میں اس میں کیا تبدیلی کروں؟ جزاک اللہ۔ تنقیح: سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ جو ڈیزائن ان کے اپنے بنائےہوئے ہوں گے ان کی قیمتوں کی تصدیق(confirmation (پہلے جیکٹ بنانے والے (مینوفیکچرر)سے ہوگی پھر سائل اپنا منافع شامل کرے گا اور اس کے بعد ویب سائٹ پر قیمتیں ظاہر کی جائیں گی۔دوسری صورت میں اگر گاہک اپنی پسند کا ڈیزائن فراہم کرے گا تو پہلے جیکٹ بنانے والے کی طرف سے قیمت کی تصدیق ہوگی پھر سائل اپنا منافع شامل کرکے گاہک کو قیمت بتا دے گا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اپنی ویب سائٹ بناکر اس پر مختلف قسم کے جیکٹس کے ڈیزائن اپلوڈ کرکے ویب سائٹ پر آنے والے گاہکوں (کسٹمرز) سے آرڈر لینا اور پھر اس آرڈر کےعین مطابق چیز تیار کرواکے گاہک کو بیچ دینا، یہ عقد(contract (شرعا استصناع (آرڈر پر مال بنانا) ہے ، اصطلاح میں عقدِ استصناع سے مراد کاریگر(مینوفیکچرر) سے کوئی ایسی چیز بنوانا جس میں عمل کی ضرورت پڑتی ہو اور اس کو بنانے کے لیے کاریگر خام مال((raw material اپنے پاس سے استعمال کرے۔اس عقد میں آرڈر دینے والے کی شرعی حیثیت مستصنع (آرڈر پر چیز تیار کروانے والا) اورآرڈر وصول کرنے والے کی حیثیت صانع (آرڈر پر چیزبنانے والا) کی ہوتی ہے اورعقد ِ استصناع میں چیز تیار کرنے سے پہلے آرڈر لینا درست ہے، اس میں چیز کا ملکیت میں ہونا اور قبضہ میں ہونا ضروری نہیں لیکن اس سلسلے میں ویب سائٹ کے مالک کو چاہیے کہ اپنی ویب سائٹ یا پروڈکٹس (مثلا ڈیزائن) کے ڈسکرپشن پر یہ اعلان لکھ دے کہ یہاں آرڈر پر چیزیں تیار کرکے بیچی جاتی ہیں، تاکہ آنے والے کسٹمرز پر یہ بات واضح ہو کہ یہ تاجر خود پروڈکٹ تیار کرکے بیچے گا اور اگر ویب سائٹ کا مالک اپنے کسٹمرز سے جیکٹس کے آرڈر لینے کے بعدانہیں کسی تیسرے فریق(مینوفیکچرر) سے تیار کروائے گا تو بھی شرعا یہ عقد جائزاور درست رہے گا، اس صورت میں ویب سائٹ کا مالک مستصنع اور مینوفیکچرر (مثلا جو درزی ہوگا) وہ صانع ہوگا، گویا ان دونوں کے درمیان بھی عقدِ استصناع منعقد ہوگا۔
اس سلسلے میں چند باتوں کی رعایت رکھنا نہایت ضروری ہے:
1. استصناع (آرڈر پر چیز تیار کروانا) کا عقد ان چیزوں میں صحیح رہے گا جن میں باقاعدہ کاریگری (مینوفیکچرنگ) کی ضرورت پڑتی ہو،یعنی ان چیزوں کی تیاری میں عمل کی ضرورت پڑتی ہو اور ان کو بنانے کے لیے مینوفیکچرر اپنے پاس سے خام مال ((raw material کا استعمال کرے، لہذا اگر ویب سائٹ کا مالک (صانع) اپنے کسٹمرز (مستصنع) سے ایسی چیزوں کا آرڈر لینے لگے جنہیں لوگ کاریگر (مینوفیکچرر) سے تیار نہ کرواتے ہوں تو ان میں عقدِ استصناع درست نہ رہے گا جیسے: عطر ، پرفیوم ، گھڑی ، موبائل، کچن گیجٹس و دیگر ریڈی میڈ چیزیں وغیرہ ۔
2. استصناع کا عقد ان اشیاء میں کیا جائے جس میں لوگوں کا تعامل ہو یعنی لوگ اسے عرف میں آرڈر پر بھی بنواتے ہوں، لہذا اگر ویب سائٹ کا مالک کچھ وقت کے بعد ایسی چیزوں کا آرڈر لینا شروع کرے جو عام طور پر لوگ آرڈر پر نہیں بنواتے ہیں بلکہ تیار حالت میں خریدتے ہیں جیسے : عطر ، پرفیوم ، گھڑی ، موبائل وغیرہ ۔ ایسی چیزوں کا آرڈر لینا جائز نہ ہوگا۔ اس سلسلے میں اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ویب سائٹ کی ڈسکرپشن میں اس بات کا اضافہ کرے کہ یہاں چیزیں آرڈر پر تیار کرواکے اور تیار شدہ دونوں حالتوں میں بیچی جاتی ہیں۔
3. کسٹمرز سے آرڈر لیتے وقت جیکٹ چائے ایک ہو یا ایک سے زائد ، بہرصورت ان کی قیمت کا معلوم ہونا ضروری ہے ۔
4. کسٹمرز سے آرڈر لینے کے بعد ویب سائٹ کا مالک نقد قیمت (ایڈوانس پیمنٹ) لینی چاہے تو نقدبھی لے سکتا ہے ، اور اگر چاہے تو ادھار یا قسط وار قیمت وصول کرے ۔ اگر مالک اس طرح کی کوئی رقم وصول کرے تو وہ اس کا مالک بن جائے گا ، لہذا اس کے لیے اس رقم میں تصرف کرنا اور فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
5. آرڈر پر دی گئی چیز کی حوالگی کی مدت متعین نہ کی گئی ہو ۔ اگر کوئی مدت متعین کردی جائے اور پیمنٹ بھی ایڈوانس میں کیا جائے تو سلم (قیمت نقد اور چیز ادھار)کی بنیاد پر یہ عقد درست رہے گا۔
6. جن جیکٹس کا آرڈر طے ہوجائے تو پھر ان کا ان اوصاف (qualities) کے مطابق ہونا ضروری ہے جن پر طرفین کا اتفاق ہوا ہے۔ اگر پہلے سے بنی ہوئی متعین جیکٹس کا آرڈر لے کر کسٹمرز کو بیچ دے تو یہ معاملہ ناجائز ہوگا۔
7. کسی متعین ڈیزائن کی جیکٹ کے بجائے اگر ویب سائٹ کے مالک اور کسٹمر کے درمیان ہونے والے عقد کی بنیاد اوصاف پر ہو، لیکن جیکٹ کی حوالگی) (deliveryکے وقت ویب سائٹ کا مالک پہلے سے بنی ہوئی جیکٹ کسٹمر کو لاکر دے تو اگر یہ جیکٹ آرڈر پر دی گئی جیکٹ کےسارے اوصاف کے موافق ہے تو یہ عقد جائز ہوگا ورنہ نہیں۔
8. اگر ویب سائٹ کا مالک آرڈر پر دی گئی جیکٹ تیار کرواکے کسٹمر کو حوالہ کرنے سے پہلے وہی جیکٹ کسی دوسرے کسٹمر کو بیچ دے تو عقد جائز رہے گا، اس لیے کہ مصنوع (جیکٹ )کی حوالگی سے قبل مصنوع (جیکٹ ) صانع (ویب سائٹ کے مالک) کی ملکیت ہے۔
9. جیکٹ کسٹمر کو حوالہ کرنے سے پہلےصانع (ویب سائٹ کا مالک ) کے ضمان میں ہوگا، لہذا اگر وہ ضائع ہوجائے یا کہیں گم ہوجائے، بہر صورت صانع (ویب سائٹ کا مالک) اس کا ضامن ہوگا اور اسی کے مال سے اسے ہلاک سمجھا جائے گا۔
10. کسٹمر سے آرڈر لینے کے بعد اگر ابھی تک مینوفیکچرر نے جیکٹ بنانا شروع نہیں کیا ہے تو اس وقت تک کسٹمر یا ویب سائٹ کے مالک دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہے چاہے تو اس عقد کو جاری رکھے چاہے ختم کردے۔
حوالہ جات
فقہ البیوع (1/577):
الشرط الأول: أن يكون المعقود عليه مما يحتاج إلى صنعة:
فلا يمكن الاستصناع فيما لا صنعة فيه، مثل: الحنطة أو الشعير أو المنتجات الزراعية الأخرى.
فقہ البیوع (1/576):
الشرط الثالث : أن لا يُضرب لتسليم المعقود عليه أجل للاستمهال :
فإن ضرب له أجل فيما لا تعامل فيه صار سلماً باتفاق أئمة الحنفية. وأما إذا ضرب أجل في ما فيه تعامل للناس بالاستصناع، صار سلماً عند أبي حنيفة الليال، فيشترط تعجيل رأس المال، خلافاً لصاحبيه، فإنه لا يصير سلماً عندهما. ولكن ذكر مشايخ الحنفية أن هذا الخلاف فيما إذا كان الأجل للاستمهال من الصانع. أما إذا كان للاستعجال، فلا يصير سلماً عند أبي حنيفة أیضا۔
بدائع الصنائع (5/4):
و منھا: أن یکون مما یجري فیہ التعامل بین الناس من أواني الحدید والرصاص والنحاس والزجاج والخفاف والنعال ولجم الحدید للدواب ونصول السیوف والسکاکین والقسي والنبل والسلاح کلہ والطشت والقمقمۃ ونحو ذلک، ولا یجوز فی الثیاب لأن القیاس یأبی جوازہ وإنما جوازہ استحسانا لتعامل الناس ولا تعامل فی الثیاب.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 76):
(المادة 389) : كل شيء تعومل استصناعه يصح فيه الاستصناع على الإطلاق وأما ما لم يتعامل باستصناعه إذا بين فيه المدة صار سلما وتعتبر فيه حينئذ شروط السلم وإذا لم يبين فيه المدة كان من قبيل الاستصناع أيضا.
فقہ البیوع (1/579):
الشرط الرابع: أن يُعقد الاستصناع فيما فيه تعامل بالاستصناع. فما ليس فيه تعامل، لا يجوز فيه الاستصناع وهذا الشرط ذكره جميع فقهاء الحنفية، لأنّ الاستصناع إنما شرع على أساس التعامل، فلو لم يكن هناك تعامل، فقد مبرره، فلم يجز. ولذلك قالوا: لا يجوز الاستصناع لنسج الثياب.
فقہ البیوع (1/5586,58):
أحكام المصنوع : ۱۔يجب أن يكون المصنوع موافقاً للمواصفات التي اتفق عليها الطرفان، ولا يجوز أن يُعقد الاستصناع على شيء معين مصنوع من قبل. ۲۔إذا وقع العقد على أساس المواصفات، لا على شيء معين، ولكن أتى الصانع عند التسليم بشيء مصنوع من قبل، جاز إن كان موافقاً للمواصفات المعقود عليها. قال الحصكفي الريال : «فإن جاء الصانع بمصنوع غيره، أو بمصنوعه قبل العقد، فأخذه، صح ). ...والمصنوع قبل التسليم ملك للصانع، ولهذا ذكر الفقهاء أنه يجوز له أن يبيعه من غيره، كما في الدر المختار: «فصح بيع الصانع لمصنوعه قبل رؤية آمره»…۳۔ إن المصنوع قبل التسليم مضمون عليه، فيتحمل الصانع جميع تبعات الملك من صيانته وحفظه، فإن هلك قبل التسليم هلك من مال الصانع. ۴۔وبما أن المصنوع ملك للصانع، وليس ملكاً للمستصنع قبل التسليم، فلا يجوز للمستصنع أن يبيعه قبل أن يُسلّم إليه.۵۔ تبرأ ذمة الصانع بتسليم المصنوع إلى المستصنع، أو تمكينه منه بالتخلية، أو تسليمه إلى من يُحدّده المستصنع وكيلاً عنه في القبض،وبهذا ينتقل ضمان المصنوع من الصانع إلى المستصنع.
۶۔إذا كان المصنوع وقت التسليم غير مطابق للمواصفات، فإنّه يحق للمستصنع أن يرفضه، أو أن يقبله بحاله، فيكون من قبيل حسن الاقتضاء، ويجوز للطرفين أن يتصالحا على القبول، ولو مع الحط من الثمن، أما إذا كان موافقاً للمواصفات، فليس فيه خيار للمستصنع۔
فقہ البیوع (1/059):
أحكام ثمن الاستصناع:
1. يجب أن يكون ثمن الاستصناع معلوماً عند إبرام العقد.
2. معجلاً أو مؤجلاً أو مقسطاً، ويجوز أيضاً أن تكون أقساط الثمن مرتبطة
3. يجوز أن يكون الثمن معجلاً كما في السلم، بل يجوز أن يكون بالمراحل المختلفة لإنجاز المشروع، إذا كانت تلك المراحل منضبطةفي العرف، بحيث لا ينشأ فيها نزاع.
4. الثمن المدفوع مقدماً عند إبرام العقد مملوك للصانع يجوز له الانتفاع والاسترباح به، وتجب عليه الزكاة فيه، ولكنه مضمون عليه، بمعنى: أنه إذا انفسخ العقد لسبب من الأسباب، يجب عليه رد الثمن على المستصنع، ويكون ربحه للصانع بحكم الضمان، تخريجاً للثمن المقدم في الاستصناع على الأجرة المقدمة أو ما اشترط تعجيله في الإجارة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 3):
وأما صفة الاستصناع: فهي أنه عقد غير لازم قبل العمل في الجانبين جميعا، بلا خلاف، حتى كان لكل واحد منهما خيار الامتناع قبل العمل، كالبيع المشروط فيه الخيار للمتبايعين: أن لكل واحد منهما الفسخ؛ لأن القياس يقتضي أن لا يجوز؛ لما قلنا. وإنما عرفنا جوازه استحسانا؛ لتعامل الناس، فبقي اللزوم على أصل القياس.(وأما) بعد الفراغ من العمل قبل أن يراه المستصنع، فكذلك، حتى كان للصانع أن يبيعه ممن شاء.كذا ذكر في الأصل؛ لأن العقد ما وقع على عين المعمول، بل على مثله في الذمة؛ لما ذكرنا أنه لو اشترى من مكان آخر، وسلم إليه؛ جاز.
صفی اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
08/رجب المرجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


