03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شاپی فائی (Shopify)ڈراپ شپنگ ماڈل کا حکم
82806خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب میرا  سوال" شاپی فائی ڈراپ شپنگ "(Shopify Drop Shipping)کے بارے میں ہے ۔ شاپی فائی بنیادی     طور پر ایک  آن لائن بزنس پلیٹ فارم  ہے جو لوگوں کو آن لائن کاروبار کی مختلف  سہولیات فراہم کرتی ہے ۔ ان  میں سے ایک سہولت یہ ملتی ہے کہ آپ    اس کی ویب سائٹ پر اپنا ایک آن لائن اسٹور بناتے ہیں اس اسٹور کے لیے ابتداء میں کوئی رجسٹریشن فیس وغیرہ جمع کرانے کی ضرورت نہیں پڑتی صرف اسٹور بناکر اس پر اپنی پروڈکٹس اپلوڈ کیے جاتے ہیں ، اگر اپنے پروڈکٹس نہ بھی ہوں تب بھی  دوسرے  بڑے بڑے آن لائن اسٹورز اور ویئر ہاؤسز سے ایگریمنٹ کرکے  بآسانی ان کے پروڈکٹس کے پکچر اور باقی  تفصیلات اٹھا کر اپنے اسٹور پر اپلوڈ کیے جاسکتے ہیں ۔ اس اسٹور کو فیس بک پیج کے ساتھ کنیکٹ کیا جاتا ہے اوراس پر  اپنی  پروڈکٹس کے ایڈز  چلا کر ان کی مارکیٹنگ  کی جاتی ہے ۔پروڈکٹس کے پکچرز تفصیلات سمیت جب آپ کے اسٹور پر  اپلوڈ ہونا شروع ہو جائیں تو  وہ اسٹور وزٹ کرنے والوں(کسٹمرز) کو آسانی سے نظر آنے لگتے ہیں    اور وہیں  سے آپ کو اپنی مطلوبہ چیز کا  آرڈر کرتے ہیں ۔

         اب میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ شاپی ڈراپ شپنگ میں عموما اسٹور بنانے والےکےپاس  inventoryنہیں ہوتی بلکہ وہ دوسرے آن لائن اسٹور جیسے کہ  amazon وغیرہ سے ایگریمنٹ کرتا ہے کہ میں آپ کی فلاں پروڈکٹس کےپکچرز اپنے اسٹور پر اپلوڈ کردیتا ہوں اورجب  ان کی مارکیٹنگ کرکے کسٹمر تلاش کرلوں تو آپ   آرڈر کردہ چیز مجھے بیچیں گے مثلا    پندرہ ڈالر میں،  لیکن اس پرہم اپنا کچھ مارجن رکھ کراوپر قیمت مثلا تیس ڈالر میں  اپنے کسٹمرز کوبیچیں گے جن میں سے پانچ ڈالر ایڈ کاسٹ کے ہوتے ہیں ۔  اس پورے  چکر میں جو چیز یں میں اپنے کسٹمرز کو بیچنا چاہتا ہوں وہ میرے ہاتھ میں نہیں ہوتے  بلکہ ان کا اسٹاک ایمزون کے پاس ہوتا ہے  اور وہی انہیں میرے کہنے پہ آگے بیچ دیتا ہے  جیسے جیسے مجھے آرڈر آنے لگتے ہیں۔اس پر  شاپی فائی اپنا مخصوص کمیشن رکھ کر باقی رقم ہمارے  میں کاؤنٹ میں ڈال دیتا ہے ۔

کیا میرے لیے اس ماڈل پر کام کرنا جائز ہے ؟اگر نہیں تو اس کی جگہ میں کون سا  طریقہ اختیار کروں کہ اس سے میرا بزنس درست رہے؟ شکریہ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی نقطہ نظر سے خرید و فروخت کے معاملے میں  اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ  جس چیز کی خرید و فروخت  ہورہی ہو، وہ عاقدین (سیلر اور کسٹمر)کے درمیان معاملہ طے پاتے وقت بائع(سیلر) کی ملکیت میں ہو، اور وہ چیز معلوم و متعین ہو اور بائع (سیلر) کے قبضہ میں بھی  ہو، چنانچہ اگر مبیع  (بیچی جانے والی پروڈکٹ)    بیچنے والے کی ملکیت میں نہ ہو بلکہ اپنے اسٹور پر محض اس کا اشتہار یا تصویر دکھلا کر  وہ  چیز فروخت کی جائے اور پھر اسے کسی دکان یا  آن لائن   اسٹور سے خرید کر  کسٹمر کو دی جائے یا اس کے ایڈریس   پربھیج دی جائے  تو یہ صورت بائع کی ملکیت میں مبیع موجود نہ ہونے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں ، البتہ اگر اس چیز کو اپنی ملکیت اور قبضے میں لانے کے بعد فروخت کیا جائے تو یہ عقد جائز ہوگا۔

شاپی فائی ڈراپ شپنگ  کے ماڈل میں اگر کسٹمرسے آرڈر لینے کو حتمی بیع(confirm contract) سمجھا جاتا ہو(جیسا کہ عموما ہوتا ہے) تو چونکہ اس مرحلے میں  فروخت کرنے سے قبل فروخت کی  جانے والی چیز سیلر نے نہیں خریدی ہوتی  ہےاور نہ وہ  اس کا مالک  ہوتا ہے، لہذا اس کے لیے اس کو آگے بیچنا بھی شرعا جائز نہیں۔

مذکورہ معاملہ  کو جائز بنانے کے لیے متبادل کے طور پر دوطریقے اختیار کرسکتے ہیں:

۱۔     ایک یہ کہ آپ (  سیلر) اپنے اسٹور کے ڈسکرپشن میں یہ اعلان لکھ دے کہ کسٹمر کا  آرڈر قبول کرنا  فی الوقت پروڈکٹ بیچنے کا محض وعدہ ہے ، کوئی حتمی بیع نہیں ہے، چنانچہ آرڈر لینے کے بعد سیلر وہ پروڈکٹ کہیں سے خرید کر اپنے قبضے میں لائے اور پھر اپنے کسٹمر سے  حتمی بیع کرے۔

۲۔     دوسرا یہ کہ آپ  جن  آن لائن اسٹورز اور ہول سیلرز سے   چیزیں  خریدتے ہیں ، ان سے یہ معاہدہ کریں کہ میں  آپ کے کمیشن ایجنٹ اور بروکر کی حیثیت سے  کسٹمرز کے آرڈر وصول کروں گا  اور انہیں    آپ کی جانب بھیج دوں گا ، وہ جتنے کی خریداری کریں گے اس کا اتنے  فیصد میری اجرت (کمیشن) ہوگی یا یوں بھی طے کرسکتا ہے کہ فلاں پروڈکٹ کی فروختگی پر اتنے روپے لوں گا۔

نیز اس طرح کے معاملات میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے:

۱۔ جن چیزوں کی تصاویر اشتہار میں دکھائی جاتی ہوں  یا  آن لائن اسٹور و ویب سائٹ پر ان کی جو تفصیلات لکھی گئی ہوں وہ  فروخت کی جانی والی چیزوں کی صفات (qualities)کے عین  مطابق ہونی چاہیے۔

 ۲۔جو چیزیں  فروخت کیے جائیں ان کی خرید وفروخت شریعت اور قانون کی رو سے منع نہ ہو، یعنی ان کی اجازت ہو۔

    ۳۔چیزوں کی قیمتیں اور  ایجنٹ کاکمیشن سب متعین  اورمعلوم  ہو، کسی قسم کا ابہام نہ ہو۔(ماخوذ از تبویب:72663 )

حوالہ جات

مصنف ابن أبي شيبة (4/ 311):

(20499 ) حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم، عن أبي بشر، عن يوسف بن ماهك، عن حكيم بن حزام، قال: قلت: يا رسول الله، الرجل يأتيني ويسألني البيع ليس عندي، أبيعه منه، أبتاعه له من السوق؟ قال: فقال: «لا تبع ما ليس عندك».

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (11/ 116):

( ومنها ) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد ، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة ، وهذا بيع ما ليس عنده { ، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان ، ورخص في السلم }۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 180):

(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع فيه غرر» ، وسواء باعه من غير بائعه، أو من بائعه؛ لأن النهي مطلق لا يوجب الفصل بين البيع من غير بائعه وبين البيع من بائعه، وكذا معنى الغرر لا يفصل بينهما فلا يصح الثاني، والأول على حاله.

المبسوط للسرخسي (13/ 8)

المنقولات لا يجوز بيعه قبل القبض عندنا...وحجتنا ما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه نهى  عن بيع  ما لم  يقبض الخ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 156):

(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة. فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود۔

الفتاوى الهندية (3/ 13)

وإذا عرفت المبيع والثمن فنقول من حكم المبيع إذا كان منقولا أن لا يجوز بيعه قبل القبض وكل جواب عرفته في المشتري فهو الجواب في الأجرة إذا كانت الأجرة عينا وقد شرط تعجيلها لا يجوز بيعها قبل القبض وكذا بدل الصلح عن الدين إذا كان عينا لا يجوز بيعه قبل القبض۔

فقہ البیوع، المجلد الثانی، ص 1103/2 )     (                                                            

الوعد او المواعدۃ بالبیع لیس بیعاً، ولا یترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ المبیع ولا وجوب الثمن۔                                                 

     صفی اللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

16/رجب المرجب/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صفی اللہ بن رحمت اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب