| 82456 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے حاجی محمد یونس اگریا صاحب کے ساتھ مدینہ منورہ میں مسواک کا کام ماہ مارچ 2015 میں شروع کیا اور میں پاکستان میں تھا حاجی محمد یونس اگریا مدینہ منور ہ میں، میں پاکستان سے مال بھیجتا تھا اور اگریا صاحب مدینہ منورہ میں مال فروخت کرتے تھے ، اگریا صاحب کے پاس مدینہ میں گودام بھی تھا ،جس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں تھا جو اُسکا اپنا تھا میرے ایک دوست محمد سلیم جس کا ترکی میں کاروبار تھا اُسکی کچھ رقم ترکی مارکیٹ میں پھنسی ہوئی تھی اس کے بدلے میں محمد سلیم نے ترکی جالی ٹوپی کا ایک کینٹینر لیا اور اس کینٹینر کی فروخت کی موضوع جگہ مدینہ تھا، محمد سلیم نے مجھ سے بات کی کہ یہ کینٹینر میں آپ کو اُدھار میں دے دیتا ہوں آپ مدینہ میں فروخت کرکے مجھے رقم دیدیں جس پر میں نے کہاٹھیک ہے محمد سلیم بھائی نے وہ کینٹنر مدینہ میں روانہ کیا ،چونکہ میرے پاس مدینہ میں کمپنی اور گودام نہیں تھا تو میں نے حاجی یونس اگریا صاحب سے بات کی،اوراس کی کمپنی سے کنیٹنر مدینہ میں منگوایا اور حاجی یونس صاحب کے پاس گودام میں بطور امانت رکھوایا اورکمپنی اور گودام کے اخراجات میں نے اگریا صاحب کو ادا کیے اور یہ فروخت میں نے خود کرنا تھا، لیکن اس دوران میں پاکستان میں تھا جب میں مدینہ منورہ گیا تو حاجی یونس اگریا کے بیٹے محمد انس اگریا اور اسکے دوست بلال سمانا نے ایک کنیٹنر ٹوپیوں کا انڈونیشیا سے کامران سمانا (جو کہ بلال سمانا کے چچا تھے)سےمنگوایا،حاجی یونس اگریا نے مجھ سے کہا میرے بیٹے انس اور اس کے دوست بلال نے یہ مال منگوایا ہے انڈونیشیا سے، لیکن یہ ان کو بہت مہنگا پڑا ہے اگر آپ ان کیلئے تھوڑا سا سستا مال منگوا لیں تو مدینہ منورہ میں ان ٹوپیوں کا اچھا کام ہوسکتا ہے ، اگریا صاحب نے مجھ سے کہا آپ اس کام کو جانتے ہو، انس اور بلال کے ساتھ تعاون کرو ،تو میں نے بھی اسی مجلس میں چوہدری اعجاز وڑائچ نامی شخص کو فون کیا اور اس سے انڈونیشین ٹوپیوں کا ریٹ معلوم کیا جو کہ بلال اور انس نے کامران بھائی کے ذریعہ سے انڈونیشیا سے منگوائی تھی ، چوہدری اعجاز صاحب نے کامران کے ریٹ سے فی درجن 13سینٹ کم ریٹ بتایا اس حساب سے پورا کنٹینر تقریبا کامران کے کینٹنر سے 31200 ریال سستا پڑتا تھا، جس پر اگریا صاحب کے بیٹے انس نے بڑی خوشی کا اظہارکیا اور کہا ابو اگر یہ کم ریٹ والا مال منگوایا جائے تو ہم پوری مارکیٹ پر قابض ہوسکتے ہیں، میں چونکہ اگریا صاحب کے گھر میں بیٹھاتھا اوراسی مجلس میں یہ بات چل رہی تھی تو حاجی یونس اگریا نے مجھ سے کہا کہ یہ کینٹینر آپ منگوا لیں اور رمضان المبارک میں اس کی رقم آپ کو مل جائے گی، چونکہ مارکیٹ میں الحمداللہ میری اچھی ساکھ تھی تو چوہدری اعجاز وڑائچ نے یہ مال میری وجہ سے اُدھار پر مدینہ منورہ روانہ کیا جب کینٹینر مدینہ منورہ پہنچ گیا تو اگریا صاحب کے گودام میں تین کینٹینرہوگئے ۔
1:۔ جو کینٹینر سلیم بھائی نے تُرکی سے میرے لیے بھیجا تھا۔
2:۔ جو کینٹینر بلال اور انس نے انڈونیشیا سے منگوایا تھا۔
3:۔ جو میں نے اگریا صاحب کے کہنے پر انڈونیشیا سے منگوایا تھا ۔
اب یہ دو کینٹینر جو انڈونیشیا سے آئے تھے بلال اور انس نے فروخت کرنے تھے اور جو ترکی سے آیا تھا وہ میں نے فروخت کرنا تھااب انس اور بلال نے کافی کوششیں کیں لیکن ان کو اس مال کی فروخت کرنے کا کوئی کسٹمر نہیں ملا تو حاجی یونس اگریا نے مجھ سے درخواست کی کہ آپ ان کے ساتھ فروخت کرنے میں تعاون کریں تو میں نے ایک دوست حاجی نعمت اللہ صاحب کے ریفرنس سے ایک کسٹمر نکالا جس کا نام محمد یعقوب تھا اور ساتھ ہی انس کو سختی سے منع کیا کہ یعقوب صاحب کو 20ہزار ریال سے زیادہ مال اُدھا پر نہیں دینا لیکن اس کے باوجود میرے منع کرنے کے باوجود انس نے تقریباً 1لاکھ 35ہزار ریال کا مال محمد یعقوب کو اُدھار پر دےدیا ، بعد میں پتہ چلا کہ محمد یعقوب دیوالیہ ہوگیا جب انس نے یعقوب کو میرے منع کرنے کے باوجود 1لاکھ 35ہزار رہال کا مال اُدھار دیا تو میں نے محمد انس کو منع کیا جو بقایا مال آپ لوگوں کے گودام میں پڑا ہے اس کو نہیں بیچنا اب میں نے وہ بقایا مال جو حاجی یونس اگریا کے کہنے پر انڈونیشیا سے منگوایا تھا نقصان پر مارکیٹ میں فروخت کردیا اور چوہدری اعجاز صاحب کو کینٹینر کی رقم ادا کردی اب میں حاجی یونس اگریا اور اسکے بیٹے یونس اگریا سے 3رقوم کا مطالبہ کرتا ہوں۔
1:۔ 1لاکھ 35ہزار ریال جو یعقوب کو میرے منع کرنے کے باوجود اُدھار دیا اور آج تک رقم نہیں ملی
2:۔ 15ہزار ریال اس کی وصولی کیلئے مختلف سفر اور خرچے کیے
3:۔ 80ہزار ریال تقریباً اس بقایا مال اور چوہدری اعجاز وڑائچ کی بقایا رقم واپس کرنے میں نقصان کیا
اب آیا ! میرا حاجی یونس اگریا اور اسکے بیٹے سے ان تینوں رقوم کا یا ان میں سے کسی ایک کا مطالبہ کرنا درست ہے؟
وضاحت سے بیان کریں تاکہ اگریا اور اس کے بیٹے سے جائز مطالبہ کیا جائے اور ناجائز سے بچا جائے۔
تنقیح :سائل نےوضاحت کی ہےکہ میراحقیقی نقصان ایک تو 1350000ریال کا ہواہے،میں نےادھارپرمال خریداتھا،بعدمیں اس کی ادائیگی بھی کردی تھی۔
اوردوسرا 15000ریال جو اسی معاملےکےلیےاسفاروغیرہ میں خرچ ہوئےہیں،یہ میراحقیقی نقصان ہواہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں تنقیح کےمطابق آپ کاجوحقیقی نقصان ہواہےشرعاصرف وہی آپ وصول کرسکتےہیں۔
۱۔135000ریال جوآپ نےذاتی طورپرادھارمال خریدکرادائیگی کی تھی اورابھی تک وصول نہیں ہوئے۔
۲۔ خاص طورپراس معاملےکےلیےاسفاروغیرہ کاخرچہ یعنی 15000ریال ۔
مذکورہ بالا دونوں رقوم آپ وصول کرسکتےہیں،البتہ تیسری رقم جس کاآپ نےذکرکیاہےیعنی 80000ریال اس کا مطالبہ کرناجائزنہیں ہوگا،اس لیےکہ دومعاملےالگ الگ ہوئےتھےدونوں ایک دوسرےپرموقوف نہیں تھے،ایک معاملہ آپ کاچوہدری اعجازکےساتھ ہواتھا،دوسرامعاملہ انس اوریعقوب کا،آپ کامعاملہ اعجازصاحب کےساتھ ہوا،اس کی ادائیگی وغیرہ آپ ہی کےذمہ تھی،اس کی ادائیگی اس پرموقوف نہیں تھی کہ انس اوریعقوب کےمعاملےمیں ادائیگی مکمل ہوگی یاوہ مال مناسب قیمت میں نکلا توآپ ادائیگی کریں گےورنہ نہیں ۔
دومعاملےچونکہ الگ الگ تھے،لہذاایک معاملےکےنقصان کودوسرےسےپوراکرنایادوسرےپرموقوف کرناشرعادرست نہیں ہوگا۔
دوسری بات یہ ہےکہ یہ نقصان حقیقی نہیں،بلکہ متوقع اورممکنہ نقصان ہے،لہذایہ رقم وصول کرناجائزنہیں ہوگا۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
22/جمادی الثانیہ 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


