| 82867 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
ایک آدمی دوسرے کو گاڑی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے جتنا بھی کماؤ پہلے اس کمائی سے گاڑی کے نقصان کا ازالہ کریں گے اگر کوئی نقصان پیش آیا، پھر جو نفع بچے گا وہ ہمارے درمیان نصف نصف ہو گا۔ اس کا کیا حکم ہے؟ خاص طور پر اس صورت میں جب ساری کمائی ہی گاڑی میں لگ جائے تو عامل کو کیا ملے گا؟ نیز کیا اس طرح معاملہ کرنادرست ہے کہ اجرت متعین نہ کرے، بلکہ یوں کہے کہ جو کمائی ہو گی وہ میرے اور آپ کے درمیان مشترک ہو گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ معاملہ شرکت المال کی ایک فاسد صورت ہے جس میں دونوں شرکاء منافع میں شرکت کر رہے ہیں اس طور پر کہ یہاں ایک شریک کی طرف سے منافع گاڑی کی صورت میں ہے اور دوسرے کی طرف سے خدمات اور سروسز کی شکل میں ہے۔ اس طرح معاملہ کر ناشر عا جائز نہیں، اور یہ شرکت فاسد ہے۔ اس معاملے میں عامل (ڈرائیور) نے گاڑی سے جو نفع کمایا ہے وہ مالک کا ہو گا اور عامل کو اجرت مثل ملے گی یعنی اس عمل کی ڈرائیونگ کا جو معروف کرایہ ہے وہ اس کو ملے گا۔
اس معاملے کو درست کرنے کا جائز متبادل یہ ہے کہ اجارے کا معاملہ کیا جائے،جس کا طریقہ یہ ہے کہ فی مہینہ یا فی دن کے حساب سے گاڑی کا متعین کرایہ مقرر کیا جائےجو مالک وصول کرے اور گاڑی چلانے سے حاصل ہونے والی ساری کمائی گاڑی چلانے والے کےلیے ہو،ایسی صورت میں یہ جائز ہوگا کہ معمول کے اخراجات جیسے پیٹرول ،پنکچر وغیرہ گاڑی چلانے والے کے ذمہ اوربڑے اخراجات مالک کے ذمہ رکھ دیے جائیں ۔ اس طرح معاملہ کرنے کے بعدجس دن کوئی آمدنی نہ ہو اگر اس دن کا کرایہ گاڑی کا مالک بغیر شرط کے تبرعا معاف کردے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔(ماخوذ از تبویب:57473)
حوالہ جات
الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (326/4)
(والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها والأجر بينهما، فالشركة فاسدة والربح للمالك وللآخر أجر مثل۔
الفتاوى الهندية (334/2)
لو دفع دابته إلى رجل ليؤاجرها على أن الأجر بينهما كانت الشركة فاسدة، فإن أجر الدابة كان جميع
الأجر لصاحب الدابة وللآخر أجر مثل عمله.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (257/9)
المادة (1343) - ( إذا كان لأحد برذون ولآخر سرج واشتركا على أن يؤجراهما وما يحصل من أجرتهما يقسم بينهما فتكون الشركة فاسدة وتكون الأجرة الحاصلة لصاحب البردون ولا يكون الصاحب السرج حصته من الأجرة لكون السرج دخيلا وتابعا للبرذون ولكن يأخذ صاحب السرج أجرة مثل سرجه ) شركة المنافع كالعروض فعليه كما لا تكون العروض رأس مال للشركة كما في المادة الأنفة لا تكون المنافع أيضار أس مال للشركة ....
المسألة الثانية - لو سلم أحد سفينته وأدواتها إلى أربعة أشخاص آخرين على أن يستعملوا هذه السفينة مع أدواتها وعلى أن يكون خمس الحاصلات لصاحب السفينة والأربعة الأخماس للشركاء الأربعة بالسوية فتكون الشركة فاسدة فإذا عمل هؤلاء على هذا الوجه فتكون الحاصلات الصاحب السفينة ويأخذ الآخرون أجر المثل ( واقعات المفتين).
المسألة الثالثة - لو سلم أحد حيوانه لآخر على أن يؤجره وتكون الأجرة مشتركة بينهما وعقدا الشركة على ذلك فتكون الشركة فاسدة فإذا أجر ذلك الشخص الحيوان فتكون الأجرة لصاحب
الحيوان وللآخر أخذ أجر مثل عمله (الهندية).
مجلة الأحكام العدلية (ص: 269):
...لكن إذا لم تعقد الشركة على تقبل العمل بل اشتركا على أن يؤجر البغلة والبعير عينا وعلى تقسيم الأجرة الحاصلة بينهما فالشركة فاسدة وإذا أجر أي من البغلة أو الجمل فتكون أجرته إلى صاحبه لكن إذا أعان أحدهما الآخر في التحميل والنقل يأخذ مثل عمله.
صفی اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
19/رجب المرجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


