| 82866 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مرکز ایپ پاکستان میں ایک ری سیلنگ ایپ ہے۔ اس پرپہلے ہم اکاؤنٹ بناتے ہیں۔ اکاؤنٹ بالکل مفت میں بنتا ہے۔ اس میں گھریلو ضروریات کی مختلف چیزیں نظر آتی ہیں یہ چیزیں اصل میں مختلف اسٹورز کی ہوتی ہیں جنہوں نے بیچنے کے لیے اپلوڈ کی ہوتی ہیں۔ کسی بھی چیز کی اصل قیمت پر کچھ منافع رکھ کر ان کی تصاویر اور تمام تر تفصیلات ہم اپنے سوشل اکاؤنٹس مثلا فیس بک مارکیٹ پلیس، انسٹاگرام اور وٹس ایپ اسٹیٹس و گروپس میں شیئر کرتے ہیں۔ اگر کسی کو وہ چیز پسند آتی ہے اور وہ خریدنا چاہتا ہو تو ہم اس سے ایڈریس لے کر مرکز ایپ پر اس کے لیے آرڈر لگا دیتے ہیں۔ مرکز ایپ میں موجود ایک چیز کی قیمت مثلا ایک 1000 روپےکی ہے ا س پر ہم اپنا منافع 200 روپے رکھتے ہیں اور 125 روپے ڈیلیوری چارجز کے ملا کر مشتری کو یہ چیز 1325 میں فروخت کردیتے ہیں ۔ آرڈر چار پانچ روز تک کوریئر سروس سے مشتری کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ مشتری چیز وصول کرنے کے بعد رقم کوریئر کو ادا کرتا ہے۔ اسے وصول ہونے والے پارسل پر اصل بائع(مرکز ایپ) کا نام نہیں لکھا ہوتا، بلکہ اسے یہ چیز ہمارے نام سے وصول ہوتی ہے۔ اس کے بعد مرکز ایپ والے ہمارا منافع ہمیں ہمارے ایزی پیسہ اکاؤنٹ یا جاز کیش میں بھیج دیتے ہیں۔ اگر مشتری کو وہ چیز پسند نہ آئے تو وہ آرڈر وصول ہونے کے بعد سات دن کے اندر ریٹرن کروا سکتا ہے۔ اس صورت میں ہم اس کا ریٹرن آرڈر لگاتے ہیں۔ آرڈر ریٹرن ہونے پر مشتری کو رقم واپس مل جاتی ہے، لیکن اس صورت میں بھی ہم سے ہمارا منافع واپس نہیں لیا جاتا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح مرکز ایپ سے منسلک ہو کر منافع کمانا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا و توجروا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی نقطہ نظر سے خرید و فروخت کے معاملے میں اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ جس چیز کی خرید و فروخت ہورہی ہو، وہ عاقدین (بائع اور مشتری )کے درمیان معاملہ طے پاتے وقت بائع کی ملکیت میں ہو، اور وہ چیز معلوم و متعین ہو اور بائع کے قبضہ میں بھی ہو، چنانچہ اگر مبیع (بیچی جانے والی پروڈکٹ) بیچنے والے کی ملکیت میں نہ ہو بلکہ اپنے سوشل اکاؤنٹس و اسٹیٹس پر محض اس کا اشتہار یا تصویر دکھلا کر وہ چیز فروخت کی جائے اور پھر اسے کسی دکان یا آن لائن اسٹور سے خرید کر مشتری کو دی جائے یا اس کے ایڈریس پربھیج دی جائے تو یہ صورت بائع کی ملکیت میں مبیع موجود نہ ہونے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں ، البتہ اگر اس چیز کو اپنی ملکیت اور قبضے میں لانے کے بعد فروخت کیا جائے تو یہ عقد جائز ہوگا۔
مرکز ایپ بعینہ رائج ڈراپ شپنگ کے ماڈل پر کام کرتا ہے اس میں اگر مشتری سے آرڈر لینے کو حتمی بیع(confirm contract) سمجھا جاتا ہو(جیسا کہ عموما ہوتا ہے) تو چونکہ اس مرحلے میں فروخت کرنے سے قبل فروخت کی جانے والی چیز بائع نے نہیں خریدی ہوتی ہےاور نہ وہ اس کا مالک ہوتا ہے، لہذا اس کے لیے اس کو آگے بیچنا بھی شرعا جائز نہیں۔
مذکورہ معاملہ کو جائز بنانے کے لیے متبادل کے طور پر دوطریقے اختیار کرسکتے ہیں:
۱۔ ایک یہ کہ آپ ( بائع ) اپنے سوشل اکاؤنٹس پر چیزوں کی تصاویر اپلوڈ کرتے وقت ایک مختصر سا جملہ اعلان کے طور پر لکھ دے کہ" کسٹمر کا آرڈر قبول کرنا فی الوقت پروڈکٹ بیچنے کا محض وعدہ ہے ، کوئی حتمی بیع نہیں ہے "چنانچہ آرڈر لینے کے بعد آپ وہ پروڈکٹ مرکز ایپ سے خرید کر اپنے قبضے میں لائے یا مرکز ایپ کا جو کوریئر سروس ہے اسے پروڈکٹ پر قبضہ کرنے کا وکیل بنادےاور پھر اپنے کسٹمر سے حتمی بیع کرے۔
۲۔ دوسرا یہ کہ(اگر ممکن ہو تو) آپ مرکز ایپ سے سے یہ معاہدہ کریں کہ میں آپ کے کمیشن ایجنٹ اور بروکر کی حیثیت سے کسٹمرز کے آرڈر وصول کروں گا اور انہیں آپ کی جانب بھیج دوں گا ، وہ جتنے کی خریداری کریں گے اس کا اتنا فیصد میری اجرت (کمیشن) ہوگی یا یوں بھی طے کرسکتا ہے کہ فلاں پروڈکٹ کی فروختگی پر اتنے روپے لوں گا۔
نیز اس طرح کے معاملات میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے:
۱۔ جن چیزوں کی تصاویر اشتہار میں دکھائی جاتی ہوں اور ان کی جو تفصیلات لکھی گئی ہوں وہ فروخت کی جانی والی چیزوں کی صفات (qualities)کے عین مطابق ہونی چاہیے۔
۲۔چیزوں کی قیمتیں اور ایجنٹ کاکمیشن سب متعین اورمعلوم ہو، کسی قسم کا ابہام نہ ہو۔
حوالہ جات
مصنف ابن أبي شيبة (4/ 311):
(20499 )حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم، عن أبي بشر، عن يوسف بن ماهك، عن حكيم بن حزام، قال: قلت: يا رسول الله، الرجل يأتيني ويسألني البيع ليس عندي، أبيعه منه، أبتاعه له من السوق؟ قال: فقال: «لا تبع ما ليس عندك».
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (11/ 116):
( ومنها ) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد ، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة ، وهذا بيع ما ليس عنده { ، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان ، ورخص في السلم }۔
المبسوط للسرخسي (13/ 8):
المنقولات لا يجوز بيعه قبل القبض عندنا...وحجتنا ما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه نهى عن بيع ما لم يقبض الخ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63):
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.
فقہ البیوع، المجلد الثانی، ص 1103/2 ) (:
الوعد او المواعدۃ بالبیع لیس بیعاً، ولا یترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ المبیع ولا وجوب الثمن۔
صفی اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
20/رجب المرجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


