03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قتل میں مدد کرنے والی کی سزاکیاہے؟
82236قصاص اور دیت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

"عبد الرب اور اس کے والد" کی شرعی سزا کیا ہے؟عبدالرب نے قاتل کوبتایاتھاکہ وہ اس جگہ موجودہے،قاتل کی گاڑی میں عبدالرب اوراس کے والددونوں موجودتھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قتل میں معاونت کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں:ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ قتل کے عمل میں براہ راست کوئی مددکرے اورسب ملکرقتل کریں،اس صورت میں سب کوقصاصاقتل کیاجائے گا۔

دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ تعاون کرنے والا قتل کے عمل میں براہ راست شریک نہ ہو،لیکن کسی درجہ میں مددکی ہو،جیسے قاتل کومقتول کی جگہ بتادی یاگاڑی میں لیکرآیا وغیرہ،اس صورت میں سزا کی نوعیت کافیصلہ عدالت کی صوابدیدپرہے،عدالت جس طرح کی سزامناسب سمجھے دیدے۔صورت مسؤلہ میں عبدالرب نے صرف راہنمائی کی ہے اس لئے سزاکااختیارعدالت کی صوابدیدپرہے،اسی طرح عبدالرب کے والد نے بھی اگرکسی طرح کاتعاون کیاہے تواس کی سزاکا اختیار بھی عدالتکوہے۔

حوالہ جات

فی التشريع الجنائي في الإسلام (ج 3 / ص 138):

الإعانة فى حالة التمالؤ: ذكرنا قبلاً أن التمالؤ عند أبى حنيفة هو التوافق. وأن باقى الأئمة يرون التوافق قتلاً على الاجتماع لا تمالؤ فيه، وأن التمالؤ عندهم هو الاتفاق السابق على ارتكاب جريمة القتل، والفرق بين الحالتين أن المباشرين فى حالة الاتفاق يعتبر كل منهم قاتلاً، ولو كان فعله بالذات غير قاتل، ما دام الموت كان نتيجة أفعال الجميع أما فى حالة التوافق فلا يعتبر المباشر قاتلاً إلا بشروط بيناها عند الكلام على القتل على الاجتماع.

ولا خلاف فى أن القاتل فى الحالتين يقتص منه ولو تعدد المباشرون سواء كان اجتماعهم على القتل نتيجة اتفاق سابق أو توافق غير منتظر.

ولكن الخلاف فى حكم من اتفق ولم يحضر القتل، أو أعان عليه ولم يباشره فأبو حنيفة والشافعى وأحمد يرون القصاص من المباشر فقط، وتعزير من لم يباشر.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

     ۵/جمادی الثانی ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب