03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضاربت میں “Incentive” کی رقم کا حکم
80442جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

میں مختلف اوقات میں لوگوں سے کاروبار کے لئے مضاربت پر رقم لیتا ہوں،جس میں نفع آدھا آدھا تقسیم کرنے پر رضامندی ہوتی ہے،پوچھنا یہ تھا کہ اس منافع میں Incentive” کی رقم بھی شامل ہوگی یا نہیں؟

“Incentive” وہ رقم ہے جو پراڈکٹ سیل ہونے کے بعد کمپنی کی طرف سے ہمیں مہینے کے آخر میں ملتی ہے،“invoice” کمپنی کی جانب سے دس فیصد کے حساب سے بنتا ہے،مہینے کے آخر میں ہر ایک پراڈکٹ پر ہمیں پانچ فیصد مل جاتا ہے جو ہمارے کھاتے میں جمع ہوجاتا ہے،کیا جس شخص سے میں نصف نفع کی بنیاد پر مضاربت پر پیسے لیتا ہوں وہ میرے ساتھ اس میں شریک ہوگا یا نہیں؟

مثال کے طور پر ایک چیز کمپنی کی جانب سے پانچ ہزار کی مل رہی ہے،ہم آگے ہول سیل میں پانچ ہزار تین سو میں فروخت کرتے ہیں،مہینے کے آخر میں اس پر کمپنی کی جانب سے ہمیں پانچ فیصد کمپنی کی طرف سے “Incentive”کے نام پر مل جاتے ہیں جو دوسو پچاس روپے بنتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مضاربت میں نفع کا اطلاق اس رقم پر ہوتا ہے جو کاروبار کے نتیجے میں اصل سرمایہ سے زائد حاصل ہو، چونکہ  مذکورہ رقم بھی آپ کو رب المال کے سرمایہ سے کاروبار کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے،اس لئے یہ رقم بھی نفع میں شامل ہوکر طے شدہ تناسب  سےتقسیم ہوگی۔

حوالہ جات

"المبسوط للسرخسي" (22/ 20):

" وعن الشعبي - رحمه الله - أنه سئل عن رجل أخذ مالا مضاربة أنفق في مضاربته خمسمائة ثم ربح قال يتم رأس المال من الربح وبه أخذنا فقلنا للمضارب أن ينفق من مال المضاربة إذا سافر به؛ لأن سفره كان لأجل العمل في مال المضاربة فيستوجب النفقة فيه كالمرأة تستوجب النفقة على زوجها إذا زفت إليه؛ لأنها فرغت نفسها له، فقلنا: الربح لا يظهر ما لم يسلم جميع رأس المال لربه؛ لأن الربح اسم للفضل فما لم يحصل ما هو الأصل لرب المال لا يظهر الفضل".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

27/ذی قعدہ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب