| 80992 | خرید و فروخت کے احکام | زمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل |
سوال
سائل کا باغ ہے جو گھر سے کافی دور ہے،جس کی وجہ سے اس کی حفاظت کرنا کافی مشکل ہے،جب اس باغ کے پھل تیار ہوجاتے ہیں تو لوگ اسے توڑ دیتے ہیں،جس کی وجہ سے ہمیں بہت مالی نقصان ہوتا ہے،فصل ضائع ہوجاتی ہے،درخت کی شاخیں توڑ دیتے ہیں،باغ سے جتنا منافع ملنا چاہیے اتنا نہیں ملتا۔
لہذا پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہم اس باغ کو پھل ظاہر ہونے سے پہلے پھول ہونے کے دوران بیچ سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب تک پھل ظاہر نہ ہوئے ہوں اس وقت تک ان کی خرید وفروخت ناجائز ہے ۔
جب درخت پرصرف پھول ظاہر ہوئے ہوں تو ان کی خرید وفروخت درست ہے ،لیکن اس صورت میں پھلوں کی نہیں، بلکہ پھولوں کی بیع کرنی پڑے گی اور ظاہر ہےکہ اس صورت میں ان کی قیمت کم ہوگی ۔
اگر پھلوں کے ظاہر ہونے سے پہلےباغ کی خرید وفروخت کرنا چاہیں تو جائز ہونے کی یہ صورتیں ہوسکتی ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ اس وقت بیع نہ کی جائے بلکہ وعدہ بیع کیا جائے مثلا ، بائع (فروخت کنندہ) مشتری (خریدار) کو کہے کہ جب پھل قابلِ بیع ہو جائیں گے تو میں اتنی رقم کے عوض وہ پھل آپ کو بیچ دوں گا اور خریدار اس بات کا وعدہ کرے کہ میں اس رقم کے عوض یہ پھل خرید لوں گا، اور اس صورت میں بائع یہ دیکھنے کے لئے کہ خریدار اپنے وعدہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں ؟ کچھ رقم وعد ہ کے وقت لے سکتا ہے۔ پھر جب پھل بیع کے قابل ہو جائیں تو خریدار باقاعدہ بیع( ایجاب و قبول) کے ذریعے ان پھلوں کو خرید لے،باہمی رضامندی سے سابقہ قیمت پر بھی بیع ہو سکتی ہے اور نئی قیمت پر بھی ہو سکتی ہے،بیع ہونے کی صورت میں وعدہ کے وقت لی گئی رقم کو اصل قیمت سے منہا کیا جائے گا۔
نیز بیع ہونے سے پہلے باغ کے پھول یا پھل ضائع ہوگئے تو وہ نقصان خریدار کا نہیں ،بلکہ باغ کے مالک کا ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ پہلے درختوں میں مساقاۃ (درختوں کی نگہبانی اور پیداوار میں شرکت) کا عقد ہو، اس شرط پر کہ ان پھلوں کا متناسب حصہ،مثلا:35فیصد، باغ کے مالک کو اور باقی حصے خریدار کو ملیں گے ،اس کے بعدباغ کا مالک اپنا حصہ خریدار کے لیے مباح کردے ، پھرباغ کا مالک،خریدار کو جتنے سالوں کےلیے چاہے وہ خالی زمین اجارے پر دیدے جو کہ درختوں کے درمیان ہے اور اس کا کرایہ اپنی مرضی سے اس قدرمقرر کرے ، جس میں زمین اور پیداوار دونوں کو ملحوظ رکھا جائے اور اسے مناسب نفع حاصل ہو،اس صورت میں (کہ پہلے مساقاۃ کا عقد ہو ،پھر اجارہ کا )ترتیب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، یہاں دو الگ الگ معاملات ہوں گے،اب اگر پھل نہ ہو یا کم ہو تو اس کی وجہ سے کرایہ دار کو اجارہ کی اجرت میں کمی کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ہوگا،نیز اگر کرایہ دار اس زمین میں اپنی کوئی چیز کاشت کرلیتا ہے تو باغ کے مالک کو بھی اسے روکنے کا حق نہیں ہوگا۔
تیسری صورت جو ذرا طویل اور مشکل ہے مگراس اعتبارسے بہتر ہے کہ لوگ زمین کے ساتھ پھر درختوں کی بھی حفاظت کریں گے وہ یہ ہے کہ متعین مدت تک متعین اجرت پر زمین کرایہ پر دی جائے،اس کے بعد کرایہ پر لینے والا اس میں اپنے خرچے سے باغ لگائےاور آمدن بھی خود لے ،کرایہ داری کی مدت ختم ہونے پر باغ کے درختوں کی مناسب قیمت لگا کر مالکِ زمین کو دیے جائیں،یا اگر فریقین چاہیں تو درخت کاٹے بھی جاسکتے ہیں۔
حوالہ جات
" سنن أبي داود" (3/ 260):
"عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع العنب حتى يسود و عن بيع الحب حتى يشتد".
" رد المحتار" (18/ 383):
" ( ومن باع ثمرة بارزة ) أما قبل الظهور فلا يصح اتفاقا .( ظهر صلاحها أو لا صح ) في الأصح .
( ولو برز بعضها دون بعض لا ) يصح .( في ظاهر المذهب ) وصححه السرخسي وأفتى الحلواني بالجواز لو الخارج أكثر زيلعي" .
"الدر المختار" (5/ 288):
"فيستأجر أرضه الخالية من الأشجار بمبلغ كثير، ویساقي على أشجارها بسهم من ألف سهم، فالحظ ظاهر في ا لإجارة لا في المساقاة، فمفاده فساد المساقاة بالأولى لأن كلا منهما عقد على حدة.
(بمبلغ كثير) أي بمقدار ما يساوي أجرة الأرض وثمن الثمار.قوله: (ويساقي على أشجارها)
يعني قبل عقد ا لإجارة ، وإلا كانت إجارة الأرض مشغولة فلا تصح كما سيأتي.
وفي مسائل الشيوع من البزازية: استأجر أرضا فيها أشجار أو أخذها زراعة وفيها أشجار: إن كان في وسطها لا يجوز إلا إذا كان في الوسط شجرتان صغيرتان مضى عليهما حول أو حولان لا كبيرتان، لأن ورقهما وظلهما يأخذ الأرض والصغار لا عروق لها، وإن كان في جانب من الأرض كالمسناة والجداول يجوز لعدم الإخلال اه.قوله: (بسهم) أي بإعطاء سهم واحد لليتيم أو الوقف والباقي للعامل.
قوله: (فمفاده) أي مفاد ما تقدم من قوله: فتفسخ في كل المدة إلخ وقدمنا أن المصنف استفاده من كلام الخانية، وهو بمعنى ما استفاده منه الشارح فافهم.قوله: (بالأولى) ۔۔۔وفي فتاوى الحانوتي: التنصيص في الإجارة على بياض الأرض لا يفيد الصحة، حيث تقدم عقد الإجارة على عقد المساقاة، أما إذا تقدم عقد المساقاة بشروطه كانت الإجارة صحيحة كما صرح به في البزازية".
وقال الرافعی رحمہ اللہ تعالی:"(قولہ:فلا تصح کما سیأتی)الذی ذکرہ الحموی أخر السابع عشر من فن الحیل نقلا عن المحیط الرضوی استیجار الأشجار لایجوز ،وحیلتہ أن یؤاجر الأرض البیضاء التی تصلح للزراعۃ فیما بین الأشجار بأجر مثلھا وزیادۃ قیمۃ الثمار ثم یدفع رب الأرض الأشجار معاملۃ الیہ علی أن یکون لرب الأرض جزء من ألف جزء ویأمرہ أن یضع ذلک الجزء حیث أراد ،لأن مقصود رب الأرض أن تحصل لہ زیادۃ أجرالمثل بقیمۃ الثمار ومقصود المستأجر أن یحصل لہ ثمار الأشجار مع الأرض وقد حصل مقصودھما بذلک فیجوز".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
21/محرم 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


