| 80895 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
عبدالرحمن کا بقضاء الہی انتقال ہوگیا،مرحوم نے پسماندگان میں تین بیٹے رحیم خان،جمعہ خان،فتح محمد، تین بیٹیاں عائشہ،حلیمہ،صابرہ اور ایک بیوہ چھوڑی،ان کے درمیان ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عبدالرحمن مرحوم کے ترکہ یعنی وہ سونا،چاندی،نقدی،جائیداد یا ان کے علاوہ کوئی بھی چھوٹا بڑا سامان جو وفات کے وقت ان کی ملکیت میں تھا،اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے،بشرطیکہ کسی نے تبرعاً نہ کئے ہوں،پھر اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا،پھر اس کے بعد اگر انہوں کے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال تک اسے پورا کیا جائے گا،اس کے بعد بقیہ ترکہ میں سے ٪12.5 ان کی بیوہ کو،٪19.444 ان کے ہر بیٹے کو،جبکہ ٪9.722 ان کی ہر بیٹی کو ملے گا۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (6/ 759):
"(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير)...
(ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد، (وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا ثم) تقدم (وصيته) ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه وإنما قدمت في الآية اهتماما لكونها مظنة التفريط (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته)".
"الدر المختار " (6/ 769):
"فقال :(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
14/محرم 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


