03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اولاد کی موجودگی میں چچا کے بیٹوں کی وراثت کا حکم
80896میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

عبدالرحمن کا بقضاء الہی انتقال ہوگیا،مرحوم نے پسماندگان میں تین بیٹے رحیم خان،جمعہ خان،فتح محمد، تین بیٹیاں عائشہ،حلیمہ،صابرہ اور ایک بیوہ چھوڑی،ان مذکورہ بالا ورثا کے ہوتے ہوئے چچا کے بیٹے عبدالقدوس،حبیب داد اور باغوان مرحوم عبدالرحمن کی میراث آپس میں تقسیم کرسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالا ورثا کے ہوتے ہوئے مرحوم کے چچا کے بیٹوں کا میراث میں کوئی حصہ نہیں،اس لئے انہیں ترکہ کو آپس میں تقسیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (6/ 774):

"(ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا).....

 (ثم جزء جده العم) لأبوين ثم لأب ثم ابنه لأبوين ثم لأب (وإن سفل ثم عم الأب ثم ابنه ثم عم الجد ثم ابنه) كذلك وإن سفلا فأسبابها أربعة: بنوة ثم أبوة ثم أخوة ثم عمومة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

14/محرم 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب