| 80899 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
دو بھائی صاحب اولاد ہیں،ان میں سے ایک (زید) کے بیٹے نے دادی کا دودھ پیا اور دوسرے بھائی عمرو کی بیٹی نے بھی دادی کا دودھ پیا،اب سوال یہ ہے کہ کیا زید کے اس بیٹے کا عمرو کی دیگر بیٹیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دادی کا دودھ پینے کی وجہ سے زید کا یہ بیٹا اپنے چچا عمرو کا رضاعی بھائی بھی بن گیا،جس کے نتیجے میں وہ عمرو کی اولاد کا رضاعی چچا بن گیا اور رضاعی چچا کا اپنی رضاعی بھتیجی سے نکاح جائز نہیں،اس لئے زید کے اس بیٹے کا عمرو کی کسی بیٹی کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (1/ 343):
"يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
15/محرم 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


