| 81006 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میں نے اپنے والدین کے دباؤ میں آکر تحریری طورپر طلاق دی اور میرے باپ نے اپنا چیک جس پر بیوی کے مہر کی رقم لکھی تھی بیوی کے حوالے کردیا،میرے ماں باپ خود بولتے ہیں کہ ہم نے طلاق کا بولا اور ہم نے طلاق دلوائی ہے،میں یہ طلاق نہیں دینا چاہتا تھا،میں نے ماں باپ کے دباؤ میں آکر یہ کام کیا،ماں باپ مجھے بولتے تھے کہ ہم تمہیں گھر سے نکال دیں گے،ہمارا تمہارے ساتھ رشتہ ختم ہوجائے گا،میں اس کام میں نہیں آنا چاہتا تھا،مجھ سے زبردستی طلاق دلوائی گئی،میں نے مولانا طارق مسعود صاحب کی ویڈیو دیکھی،جس میں انہوں نے کہا کہ زبردستی اور ذہنی دباؤ میں طلاق واقع نہیں ہوتی،میں ہرگز یہ کام نہیں کرنا چاہتا تھا،اب مجھے فتوی چاہیے کہ میری یہ طلاق ہوگئی یا نہیں؟
مجھ سے اسٹام پیپر پر لکھواکر دستخط کرنے کو کہا گیا،میں نے اپنے دل سے اور منہ سے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی۔
تنقیح:سائل نے بتایا کہ اس کے والدین نے اسے یہ اختیار دیا تھا کہ اگر وہ اپنی بیوی کے ساتھ چل سکتا ہے تو وہ اس کے لئے الگ رہائش کا انتظام کردیں گے جہاں وہ اس کے ساتھ رہے،لیکن ہم اسے مزید ساتھ نہیں رکھ سکتے،جس پر شوہر نے اس وقت والدین سے کہا تھا کہ میں بھی اس کے ساتھ نہیں چل سکتا۔
نیز جس طلاق نامے پر شوہر نے دستخط کئے ہیں اس پر تین طلاقیں تحریر تھیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں طلاق تب واقع نہ ہوتی جب والدین کی جانب سے دی گئی گھر سے بے دخل کرکے رشتہ ختم کرنے کی دھمکی کے حوالے آپ کو یہ یقین یا غالب گمان ہوتا کہ اگر آپ بیوی کے طلاق نامے پر دستخط نہ کرتے تو والدین اپنی دھمکی پر عمل کرگزرتےاور آپ کو گھر سے نکال کر رشتہ ختم کردیتے اور ان کے گھر سے نکالنے کی صورت میں آپ کے لیے علیحدہ رہائش کا انتظام ناممکن یا بہت مشکل ہوتا۔
لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں آپ کے بیان کے مطابق ایسی صورت حال نہیں تھی،بلکہ والدین نے آپ کو الگ سے اپنا گھر نہ صرف بسانے کی اجازت دی تھی،بلکہ ازخود گھر کا انتظام کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کے طلاق نامے پر دستخط کرنے میں آپ کی مرضی بھی شامل تھی،جیسا کہ والدین کے والدین کے اس حوالے سے مشورے(اگر تم بیوی کے ساتھ رہ سکتے ہو تو ہم الگ گھر کا انتظام کردیتے ہیں) پر آپ کے جواب(میں اس کے ساتھ نہیں چل سکتا) سے معلوم ہوتا ہے،اس لئے مذکورہ صورت میں طلاق نامے پر دستخط کرنے کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد موجودہ حالت میں اب آپ دونوں کا دوبارہ نکاح ممکن نہیں رہا۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (1/ 379):
"رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان".
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):
"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".
"الدر المختار " (6/ 129):
"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
25/محرم 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


