03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق دی اور فارغ کیا
81036طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میں مسمی مظہر حسین ولد محمد نواز بیان کرتا ہوں کہ میں اپنی بیوی کو میکے لینے گیا تو اس کے انکار پر میں نے ایک دفعہ طلاق اور ایک دفعہ فارغ ہونے کا کہا،اس کے بعد دوبارہ لڑائی کے دوران غصے میں ایک دفعہ طلاق کا لفظ استعمال کیا،یہ تمام الفاظ ایک مجلس میں کہے گئے تھے۔

تنقیح: شوہر نے یہ الفاظ استعمال کئے :"میں نے طلاق دی اور فارغ کیا"،اس کے بعد پھر غصے میں کہا کہ "میں نے طلاق دی"۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق صریح کے بعد جب ایسے کنایہ الفاظ بولے جائیں جن میں سابقہ صریح طلاق کی توضیح،تفسیر اور اس کے حکم کے بیان کا احتمال موجود ہو اور شوہر نے ان الفاظ سے دوسری طلاق کی نیت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں ایک بائن طلاق واقع ہوتی ہے۔

لہذا مذکورہ صورت میں بھی اگر دو صریح طلاقوں کے درمیان بولے گئے جملے"فارغ کیا "سے شوہر کی علیحدہ طلاق کی نیت نہیں تھی تو مذکورہ صورت میں دو بائن طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد میاں بیوی اگر باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہو تو نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا پڑے گا اور اس کے بعد شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا،یعنی دوبارہ نکاح کے بعد اگر ایک طلاق بھی دے دی تو بیوی حرمتِ غلیظہ کے ساتھ اس پر حرام ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ فقہاء کی عبارات میں دونوں الفاظ کے درمیان حرف عطف ہونے اور نہ ہونے کی وجہ سے حکم میں فرق کیا گیا ہے،لیکن چونکہ اردو زبان میں حرف عطف (لفظ "اور")کے درمیان میں  لانے یا نہ لانے سے معنی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا،اس لئے دونوں صورتوں کا حکم ایک ہی ہوگا اور اسے عطف تفسیری کی قبیل سے مانا جائے گا۔("امداد المفتین":2/ 523)

حوالہ جات

"البحر الرائق " (9/ 302):

"قوله : ( أنت طالق بائن أو ألبتة أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو البدعة أو كالجبل أو أشد الطلاق أو كألف أو ملء البيت أو تطليقة شديدة أو طويلة أو عريضة فهي واحدة بائنة إن لم ينو ثلاثا ) بيان للطلاق البائن بعد بيان الرجعي وإنما كان بائنا في هذه لأنه وصف الطلاق بما يحتمله وهو البينونة فإنه يثبت به البينونة قبل الدخول للحال وكذا عند ذكر المال وبعده إذا انقضت العدة وأورد عليه أنه لو احتمل البينونة لصحت إرادتها بطالق ، وقد قدمنا عدم صحتها وأجيب بأن عمل النية في الملفوظ لا في غيره ولفظ بائن لم يصر ملفوظا به بالنية بخلاف طالق بائن ، وفيه نظر مذكور في فتح القدير

 قيد بكون بائن صفة بلا عطف لأنه لو قال : أنت طالق وبائن أو قال أنت طالق ثم بائن وقال لم أنو بقولي بائن شيئا فهي رجعية ولو ذكر بحرف الفاء ، والباقي بحاله فهي بائنة كذا في الذخيرة وأفاد بقوله فهي واحدة إن لم ينو ثلاثا أنه لو نوى ثنتين لا يصح لكونه عددا محضا إلا إذا عنى بأنت طالق واحدة وبقوله بائن أو ألبتة أو نحوهما أخرى يقع تطليقتان بناء على أن التركيب خبر بعد خبر وهما بائنتان لأن بينونة الأولى ضرورة بينونة الثانية إذ معنى الرجعي كونه بحيث يملك رجعتها وذلك منتف باتصال البائنة الثانية فلا فائدة في وصفها بالرجعية وكل كناية قرنت بطالق يجري فيها ذلك".

"خلاصة الفتاوی"(9/ 302):

"وفی الفتاوی لوقال لامراتہ انت طالق ثم قال للناس زن من حرام ست وعنی بہ او لانیة لہ فقد جعل الرجعی بائنا وان عنی بہ الابتداء فھی طلاق آخر بائن ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

28/محرم 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب