03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اشتہارات کی تعلیم حاصل کرکےشعبہ اشتہارات(advertisement (میں کام کرنا
82912جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

محترم مفتی صاحب السلام و علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ: میں عبد الله عامر شریعت کی رو درخواست کرتا ہوں کہ میں اشتہارات کے مضمون میں مکمل تعلیم حاصل کر کے اسی شعبے میں پیشہ بنانا چاہتا ہوں، یہ اشتہارات مختلف چھوٹی بڑی چیزوں کو متعارف کرواتے ہیں تاکہ ان کی فروخت زیادہ سے زیادہ ہو۔ یہ اشتہارات اخبار ، رسائل اور  ٹی وی، ریڈیو اورانٹرنیٹ کےذریعےلوگوں تک پہنچتےہیں،عام طور پر اشتہارات درج ذیل پر مشتمل ہوتے ہیں مثلاکسی  چیز کی تصویر اور اسکی خصوصیات وغیرہ   :

 (1)مثال کےطورپراولپرز، مکھن ،چائےکی پتی ،صابن،soap وغیرہ کےاشتہارات

(2) اشتہار کو بنانے کیلئے مرد یا عورت کو ایک وقت میں  اشتہار میں استعمال کیا جاتا ہے مگر ان سے کسی بھی قسم کی  interaction  نہیں ہوتی، مگریہ آپ کے اوپر ہے ،اگر کرناچاہیں توہوگی ورنہ نہیں ۔

(3) یہ اشتہار عام طور پر کسی (Studio) مسجد، گھر ،ہوٹل  یاتفریحی مقامات پر بنائے جاتے ہیں۔

(۴)اشتہارات میں کبھی عورتیں ہوتی ہیں اور کبھی نہیں بھی ہوتی، لیکن جب عورتیں ہوتی ہیں تو انھوں نے کپڑےٹھیک طرح سے پہنےہوتےہیں،بس عبایانہیں ہوتا۔

(5) مجھےجو بننا ہےیاکرناہے یہ Director یا Director بنناہے ۔ ان کا کام چیزوں کو دیکھناہوتاہے، مثال کے طور پرکیمرہ، روشنی،ڈیزائن،چیزوں کی ترتیب کہ کونسی ٹیبل کرسی کہاں آئےگی،اورکیمرہ کہاں رکھنا ہے،اگرکسی اداکاریااداکارہ کوہدایت دینی ہوتواس کودیکھےبغیربھی دی جاسکتی ہیں یاکسی اور کےذریعہ بھی کہہ سکتےہیں ۔

(6) کچھ اشتہارات  میں موسیقی ہوتی ہے،لیکن   Director یا assistant director  کااس سےکوئی تعلق نہیں ہوتا اور جب Director یا assistant director  اپناکوئی کام کررہےہوتےہیں ،تب موسیقی نہیں ہوتی ۔

 (7)جن کااشتہارہوتاہے،تمام اخراجات وہ خودہی دیتےہیں،مثلا tapal ,olpars, cold drink soap, surf, blue band  وغیرہ          

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصل جواب سےپہلےبطور تمہیدعرض ہےکہ اشتہارات سےمتعلقہ تعلیم شرعاحاصل کی جاسکتی ہے،اس میں حرج نہیں،البتہ اس فیلڈمیں کام کرنےکےلیےشرعی طورپرچندچیزوں کاخیال کرناضرور ی ہے:

۱۔ سچائی  کواختیارکیاجائے،بہت زیادہ مبالغہ آرائی  ،دھوکہ دہی ا ورجھوٹ سےاحتراز کیاجائے۔

۲۔جوچیزیں شرعاحرام اورناجائزہیں(مثلاسودی کاروبار،یاشراب کی خریدوفروخت  کرنےوالی کمپنیوں کے)اشتہارات  نہ ہوں۔

 ۳۔ اشتہارات کسی ایسے مواد پر مشتمل نہ ہوں، جو شہوانیت اور جنسی جذبات کو ابھارتےہوں۔

۴۔یسے اشتہارات نہ ہوں ،جو اسلامی عقائد ونظریات سے متصادم ہوں۔

۵۔خوداشتہار غیرشرعی امور پرمشتمل نہ ہوں،مثلاجاندارکی (نان ڈیجیٹل)تصاویر،خواتین کی تصاویر،فحش تصاویر،میوزک موسیقی وغیرہ۔

مذکورہ بالااصول کےمطابق   اشتہارات کےشعبہ میں کام کیاجائےتوشرعاگنجائش ہے،اس سےحاصل شدہ آمدنی بھی حلال ہوگی،اسی تفصیل کومدنظررکھتےہوئے،سوال میں ذکرکردہ تفصیلات کاجواب درج ذیل ہے:

نمبر  1: اولپرز،ٹپا ل دانےداراوراس کےعلاوہ دیگراشتہارات  میں اگرمذکورہ بالاامورکاخیال کیاجائےتواس شعبہ میں ملازمت اختیارکی جاسکتی ہے۔

نمبر 2:پرنٹ کی تصویرتوکسی کےنزدیک بھی جائزنہیں،یہ خودغیرشرعی  ہے،چاہےمردوعورت کی interaction ہویانہ ہو،شرعی طورپراس قسم کی تصاویرسے بچنا لازم ہے۔

نمبر 3: مسجد کو اس طرح کےغیر شرعی امور پرمشتمل اشتہارات کےلیےاستعمال کرناجائزنہیں،مسجد توخاص عبادات کےلیےبنائی جاتی ہے نہ کہ دنیاوی امور  اورگناہ کےکاموں کےلیے۔

نمبر 4:اشتہارات میں بلاحجاب عورتوں کوشامل کرناخودغیرشرعی امرہے،اس سےبچنالازم ہے،اگرچہ کپڑےٹھیک طرح سےپہنےہوئےہوں ۔

نمبر 5:جہاں تک بات ہےڈائریکٹریااسسٹینٹ ڈائریکٹر کی پوسٹ پرکام کرنےکی تویہ بات تودرست ہےکہ ان کاdirect غیرشرعی امور سےواسطہ نہیں ہوتا،لیکن  indirect توواسطہ  رہتاہے، کیونکہ ذمہ دارہونےکی وجہ سےاسی کی منظوری سےچیزیں آگےفارورڈہونگی،اس لیے کسی نہ کسی  درجہ میں غیر شرعی امور میں تعاون کی صورت بہرحال پائی جائےگی،لہذاشرعی طورپر بہتر یہی ہوگاکہ  کوئی اورملازمت تلاش کی جائے،جہاں شریعت کےمطابق صرف جائزاشتہارات کاکام ہوتاہو۔

نمبر6:شرعاموسیقی کی کسی طرح گنجائش نہیں،لہذااس پرمشتمل امور غیرشرعی شمار ہونگےاورناجائزہونگے،ڈائریکٹراوراسسٹنیٹ ڈائریکٹرکااگرچہ ڈائریکٹ موسیقی سےتعلق نہ ہو،لیکن اشتہارکوفائنل  کرنےکےلیےبہرحال اس میں تعاون ہوگا ،لہذا اجتناب لازم ہوگا۔

کوئی ایسا شعبہ اشتہارات  جہاں زیادہ ترکام شریعت کےمطابق ہوتاہے،اورغیر شرعی امور کاارتکاب بہت کم ہوتاہو،وہاں بھی ملازمت کی جاسکتی ہے،البتہ اس میں بھی خیال کرناضروری ہوگاکہ حتی الامکان خلاف شرع امورکےانجام دینےسےاجتناب کیاجائے،اوربامرمجبوری شاذونادرکوئی ناجائزکام انجام دیناپڑےتو جس قدرخلاف شرع امور کاارتکاب کیاجائے،اندازےسےاس کےبقدربلانیت ثواب صدقہ بھی کیاجائے،کیونکہ احادیث میں مشتبہ چیزوں سےبھی بچنےکاحکم آتاہے۔

نیزساتھ ساتھ ایسی ملازمت کی مستقل تلاش جاری رکھی جائے،جس میں کسی ناجائزامرکاارتکاب جزوی طورپرپربھی نہ کرنا پڑے۔

حوالہ جات

"سنن ابن ماجه" 2 / 749:

عن أبي هريرة قال مر رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل يبيع طعاما فأدخل يده فيه فإذا هو مغشوش فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس منا من غشنا ( الغش ضد النصح من الغش وهو المشروب الكدر أي ليس على خلقنا وسنتنا ) صحيح۔

"البحرالرائق" 8 / 23:

ولايجوز على الغناء والنوح والملاهي)؛ لأن المعصية لايتصور استحقاقها بالعقد فلايجب عليه الأجرة من غير أن يستحق عليه؛ لأن المبادلة لاتكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه."

قال اللہ تعالی فی سورۃ النور آیت نمبر 19:

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آَمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآَخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (19)

"تفسير ابن كثير" 6 / 29:

وهذا تأديب ثالث لمن سمع شيئا من الكلام السيئ، فقام بذهنه منه شيء،وتكلم به، فلا يكثر منه ويشيعه ويذيعه، فقد قال تعالى (7) : { إن الذين يحبون أن تشيع الفاحشة في الذين آمنوا } أي: يختارون ظهور الكلام عنهم بالقبيح، { لهم عذاب أليم في الدنيا } أي: بالحد، وفي الآخرة بالعذاب ، { والله يعلم وأنتم لا تعلمون } أي: فردوا الأمور إليه ترشدوا۔

قال اللہ تعالی فی سورۃ المائدۃ : آیت 2:

 وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (2)

"تفسير ابن كثير"2 /  12:

وقوله: { وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان } يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات، وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل.والتعاون على المآثم والمحارم۔

"فقہ البیوع "2 /  1032:

امااذاکان الحلال مخلوطا بالحرام دون تمییز احدھمابالآخر فانہ لاعبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ ،بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدرالحلال سواء أکان الحلال قلیلاام کثیرا۔

" رد المحتار": 9/553:

لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علی صاحبہ۔

"قواعد الفقہ، القواعد الفقھیۃ / 115)

:"فیتصدق بلا نیۃ ثواب "

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

22/رجب      1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب