| 83173 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر سے ہے، ہمارے علاقے میں مختلف قسم کی معدنیات خصوصا ماربل کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں، جن میں سے کچھ دریافت ہوچکے ہیں اوران سےلاکھوں لوگوں کا گزر بسر وابستہ ہے۔ یہ کام جس طریقے سے چلایا جا رہا ہے اور حکومت جس طریقے سے ان معدنیات کے حقوق لوگوں کے حوالہ کرتی ہے، اس بارے میں آپ راہنمائی فرمائیں کہ وہ شریعت کے مطابق ہے یانہیں؟ اگرنہیں تو اس کا شرعی طریقۂ کار کیا ہوگا؟
(1)۔۔۔حکومت کی طرف سے حوالگی کاطریقۂ کار:
یہاں زیادہ تر، تقریبا 90 فیصدمعدنیات ان پہاڑوں میں پائی جاتی ہیں جو لوگوں (کسی قبیلے یا خاندان) کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ والئ سوات کے دورِحکومت میں یہ پہاڑ ان قبائل و اقوام کی ملکیت میں دیے گئے تھے اور پاکستان کے ساتھ انضمام کے بعداب بھی وہ اس خاص قوم یا خاندان کی جائیداد سمجھے جاتے ہیں، کسی اورقوم کو اس سے کسی طرح استفادہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ لیکن ان پر لیز صوبائی حکومت دیتی ہے، لیز دینے میں اس مالکانہ حقوق رکھنے والے قبیلے یا خاندان کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کا ایک خاص مالک قوم/قبیلہ کی چیز ان کی رضامندی کے بغیر دینا اور خود لیز کی مد میں رقم وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(2)۔۔۔ حکومت کی طرف سے لیزدینے کاطریقۂ کارکچھ یوں ہے :
حکومت کی طرف سے ایک ذیلی ادارہ محکمۂ معدنیات قائم کیاگیاہے جس نے لیز اپلائی کے لئے آن لائن سسٹم متعارف کرایا ہے اور "پہلے آئیے، پہلے پائیے" کی بنیادپرلیزدیتا ہے۔ اپلائی کرنے اور طریقۂ کار پر عمل کے بعد حکومتی ٹیکسز دینے اور اصول و قواعد فالو کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ قوم کی رضامندی سے اس کو چلانا پڑتا ہے۔ اگر لیز ہولڈر اور مالکانہ حقوق رکھنے والی قوم باہم رضامندی سے معاملہ نہیں کرپاتے تو متعلقہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر ایک معاہدہ کرکے دونوں کو اس کا پابند کرے گا، تب لیز ہولڈر کام کرنے کے قابل ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ یہ طریقۂ کار درست ہے یانہیں؟
اس کے بعدلیزہولڈراپناکام جس طریقے سے چلاتاہے، اس میں حل طلب مسائل درجِ ذیل ہیں۔
(3)۔۔۔ لیزہولڈرمعدنیات نکالنے کے لئے دوسری کمپنیوں یا لوگوں کو متعلقہ پہاڑ دیتے ہیں اوران سے فی ٹرک کے حساب سے مخصوص رقم (چالان ) وصول کرتا ہے، جس میں زیادہ حصہ لیز ہولڈر اور کچھ حصہ مالکانہ حقوق رکھنے والی قوم یا قبیلےکا ہوتاہے۔اگر لیز ہولڈر چاہےتو کسی بھی وقت اس کام کرنے والی کمپنی یا لوگوں کوکام سے روک سکتاہے۔ سڑک بنانا اورنقصان کی صورت میں لیبرکی جانی اور مالی نقصان کاازالہ کرنا جوکہ لیز ہولڈر کی ذمہ داری ہوتی ہے، اکثر وہ کام کرنے والی کمپنی اپنی مرضی سے خوداٹھاتی ہے۔اس صورت کے بارے میں راہنمائی فرمائیں کہ یہ کس حدتک درست ہے ؟
(4)۔۔۔ بعض دفعہ لیز ہولڈر اپنی لیز والی زمین میں کسی مخصوص جگہ کوکسی کام کرنے والے کی درخواست پرنقدرقم کے بدلےاس کے حوالے کرتاہے اور اس نقدرقم کے ساتھ ساتھ کام کرنے والاوہ مخصوص رقم دینے کا بھی پابند ہوتا ہے جوفی ٹرک چالان کی صورت میں لیز ہولڈروصول کرتاہے۔ اس صورت میں لیزہولڈراس کام کرنے والے کواپنی شرائط و ضوابط کے مطابق کام چلانے کا تو پابند کرسکتا ہے، لیکن اسے اس جگہ میں کام کرنے سے نہیں روک سکتا، نہ ہی نکال سکتاہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نقدرقم اور پھر چالان لینا، دینا درست ہے یا نہیں؟
(5)۔۔۔ بعض دفعہ لیز ہولڈر اپنی لیز میں مخصوص جگہ کسی ایسے بندے کو دیتاہے جو خود کام نہیں کرتا، بلکہ وہ یہ جگہ کسی دوسرے کام کرنے والے کودیتاہے، وہ دوسرا بندہ اس تیسرے بندے سے لیز ہولڈر کے چالان کے علاوہ فی ٹرک اپنے لیے ایک مخصوص رقم لیتا ہے۔ اس جگہ میں سرمایہ کاری اور پیش آنے والے نقصان میں اس دوسرے بندے کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، یہ سارے خرچے وہ تیسرا بندہ اٹھاتا ہے۔ یہ کام کرنے والا لیز ہولڈر کو چالان اور اس دوسرے بندے کو اس کامخصوص حصہ دیتاہے۔ سوال یہ ہے کہ لیز ہولڈر کے چالان کے علاوہ اس دوسرے بندے کااپنا الگ چالان لینا درست ہے یا نہیں؟
(6)۔۔۔ بعض دفعہ لیز ہولڈر سے لینے والا بندہ وہ کان (پہاڑسے ماربل کا خام مالنکالنے کی جگہ)کسی اورپارٹی کوبیچ دیتاہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کان بیچنا،جبکہ اس میں کوئی مال تیار نہ ہو، جائزہے یا ناجائز؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)۔۔۔ حضراتِ حنفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک معدنیات زمین کے تابع ہیں، لہٰذا زمین جس کی ہوگی، معدنیات بھی اس کے ہوں گے۔ لیکن حضراتِ مالکیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک معدنیات کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاکم کو حاصل ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق حکومتی قوانین کی رو سے معدنیات حکومت کی ملکیت ہے، 2019ء میں خیبر پختونخوا اسمبلی سے پاس ہونے والے ترمیمی ایکٹ میں ضم شدہ اضلاع (قبائل) کے معدنیات کو بھی حکومتی ملکیت قرار دیا گیا ہے۔ جب حکومت نے اس مجتہد فیہ مسئلے میں حضراتِ مالکیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق قانون سازی کرلی ہے تو اب یہ معدنیات حکومت کی ملکیت تصور ہوں گے، اس لیے مجموعی ملکی مفاد کے پیشِ نظر حکومت کا خود ان معدنیات کو لیز پر دینا اور اس کی رقم قومی خزانے کے لیے وصول کرنا جائز ہے؛ لأن حکم الحاکم رافع للخلاف.
(2)۔۔۔ اگر اس میں کوئی اور شرعی خرابی نہ ہو تو یہ طریقہ درست ہے۔
(3)۔۔۔ لیز ہولڈر حکومت کے ساتھ لیز کے معاہدے کی وجہ سے پہاڑوں میں موجود ماربل کا مالک نہیں بنتا، بلکہ اس کو ماربل نکالنے اور اپنی ملکیت میں لانے کا ترجیحی حق حاصل ہوجاتا ہے، اس لیے وہ آگے کمپنی یا لوگوں کے ساتھ جو معاملہ کرے گا وہ ماربل کی خرید و فروخت نہیں کہلائے گی، بلکہ اپنے اس حق سے دستبرداری ہوگی، اس دستبرداری کی صحت کی ایک شرط مدت معلوم ہونا ہے کہ وہ کتنی مدت کے لیے اس کمپنی کے حق میں دستبردار ہو رہا ہے اور دوسری شرط دستبرداری کا معاوضہ ابتدا ہی میں مکمل متعین کرنا۔ لہٰذا فی ٹرک کے حساب سے رقم لینا، معاہدے کی مدت مقرر نہ کرنا اور لیز ہولڈر کا کسی بھی وقت کمپنی اور لوگوں کو کام سے روکنا جائز نہیں۔
(4)۔۔۔ اس صورت میں لیز ہولڈر اپنے ترجیحی حق سے ابتداء میں معلوم رقم اور بعد میں فی ٹرک کے حساب سے غیر معلوم رقم کے عوض دستبردار ہوتا ہے جو کہ معاوضہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔ لہٰذا لیز ہولڈر کو معاہدہ کی طے شدہ مدت میں فی ٹرک کے حساب سے جتنی رقم ملنے کی امید ہے، اس کا ایک محتاط اندازہ لگائے اور اسے ابتداء میں ملنے والی رقم میں شامل کر کے دستبرداری کا مجموعی معاوضہ یک بارگی متعین کرلے، وصولی پھر اسی وقت یک مشت بھی کرسکتے ہیں اور معلوم اقساط کی صورت میں بھی۔
(5)۔۔۔ جب لیز ہولڈر کوئی جگہ دوسرے بندے کو دیدے اور وہ آگے کسی تیسرے بندے کو دے تو اس تیسرے بندے سے معلوم اور متعین معاوضہ (جیسا کہ اوپر بیان ہوا) لینے کا حق صرف دوسرے بندے کو حاصل ہوگا، اصل لیز ہولڈر کو اس دوسرے بندے سے معاوضہ لینے کا حق ہے، تیسرے بندے سے معاوضہ لینا اس کے لیے جائز نہیں۔
(6)۔۔۔ یہ کان اور ماربل کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، بلکہ اپنے حق سے دستبرداری ہوتی ہے، لہٰذا اگر مدت اور معاوضہ معلوم ہو تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔
حوالہ جات
المجلة (ص: 244):
مادة 1271: الأراضي القريبة من العمران تترك للأهالي مرعى ومحتصدا ومحتطبا، ويقال لها "الأراضي المتروكة".
رد المحتار (2/ 319-321):
قال ح: واعلم أن الأرض على أربعة أقسام: مباحة ومملوكة لجميع المسلمين ومملوكة لمعين ووقف……ثم إن الخمس في المباحة لبيت المال، والباقي للواجد. وأما الثاني وهو المملوكة لغير معين فلم أر حكمه، والذي يظهر لي أن الكل لبيت المال، أما الخمس فظاهر وأما الباقي فلوجود المالك، وهو جميع المسلمين، فيأخذه وكيلهم وهو السلطان. وأما الثالث وهو المملوكة لمعين فالخمس فيه لبيت المال والباقي للمالك. وأما الرابع وهو الوقف فالخمس فيه لبيت المال أيضا كما نقله الحموي عن البرجندي، ولم يعلم من عبارته حكم باقيه، والذي يظهر
لي أنه للواجد كما في الأول؛ لعدم المالك، فليحرر اه…… المعدن من توابع الأرض؛ لأنه من أجزائها، وإذا ملكها المختط له بتمليك الإمام ملكها بجميع أجزائها، فتنتقل عنه إلى غيره بتوابعها أيضا.
شرح مختصر خليل - الفقه المالکي(2/ 207):
وحكمه للإمام ( ش ) الضمير في قوله "وحكمه" يرجع للمعدن عينا أو غيرها، أي وحكم المعدن لا بقيد العين للإمام، فله أن يقطعه لمن يعمل فيه بوجه الاجتهاد حياة المقطع أو مدة من الزمان، أو يوكل من يعمل فيه للمسلمين.
الجامع لمسائل المدونة - الفقه المالکي (4/ 150):
وتلخيص هذا الاختلاف: أن المعادن على ثلاثة أقسام: ما ظهر منها في أرض العرب أو البربر أو العنوه فالإمام يليها ويقطعها لمن رأى، ولا خلاف في ذلك، وما ظهر منها في أرض الصلح، فقيل: الأمر فيه لأهل الصلح، وقيل للإمام، وما ظهر منها في أرض رجل، فقيل أمره للرجل، وقيل أمره للإمام.
التاج والإكليل - الفقه المالکي (2/ 334):
( وحكمه للإمام ولو بأرض معين إلا مملوكة لمصالح فله ) من المدونة قال مالك : وللإمام إقطاع المعادن لمن رأى ويأخذ منها الزكاة وكذلك ما ظهر من المعدن في أرض العرب وأرض البربر فالإمام يليها ويقطعها لمن أرى ويأخذ زكاتها وكذلك ما ظهر منها بأرض العنوة فهو للإمام وأما ما ظهر منها في أرض الصلح فهو لأهل الصلح لهم أن يمنعوا الناس أن يعملوا فيها ابن رشد : مذهب المدونة أن المعادن ليست تبعا للأرض التي هي فيها مملوكة كانت أو غير مملوكة إلا أن تكون في أرض قوم صالحوا عليها فإن أسلموا رجع أمرها إلى الإمام ووجهه أن المعادن التي في جوف الأرض أقدم من ملك المالكين لهافلم يحصل ذلك ملكا لهم بملك الأرض فصار ما فيها بمنزلة ما لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب قال ابن القاسم : وكذلك معادن الزرنيخ والكحل والنحاس والرصاص هي كمعادن الذهب والفضة للسلطان أن يقطعها لمن يعمل فيها.
رد المحتار (4/ 520):
و حاصله أن ثبوت حق الشفعة للشفيع وحق القسم للزوجة وكذا حق الخيار في النكاح للمخيرة إنما هو لدفع الضرر عن الشفيع والمرأة، وما ثبت لذلك لا يصح الصلح عنه؛ لأن صاحب الحق لما رضي علم أنه لا يتضرر بذلك، فلا يستحق شيئا. أما حق الموصى له بالخدمة فليس كذلك بل ثبت له على وجه البر والصلة، فيكون ثابتا له أصالة، فيصح الصلح عنه إذا نزل عنه لغيره، ومثله ما مر عن الأشباه من حق القصاص والنكاح والرق حيث صح الاعتياض عنه؛ لأنه ثابت لصاحبه أصالةً، لا على وجه رفع الضرر عن صاحبه. ولا يخفى أن صاحب الوظيفة ثبت له الحق فيه بتقرير القاضي على وجه الأصالة لا على وجه رفع الضرر، فإلحاقها بحق الموصى له بالخدمة وحق القصاص وما بعده أولى من إلحاقها بحق الشفعة والقسم، وهذا كلام وجيه لا يخفى على نبيه.
فقه البیوع (1/270):
110- حق الأسبقیة: والثاني: حق الأسبقیة، وهو عبارة عن حق التملك أو الاختصاص الذي یحصل للإنسان بسبب سبق یده إلی شیئ مباح، مثل حق التملك بإحیاء الأرض. وقد أجمع القفهاء علی أن الأرض الموات لایملکها الإنسان إلا بالإحیاء. وأما التحجیر فلایثبت به الملك، وإنما یثبت به الاختصاص، وحق التملك بالإحیاء. فمن حجر أرضا، فإنه أحق بإحیاءها. واختلفت أقوال الفقهاء الشافعیة والحنابلة في جواز بیع هذا الحق، والمختار في المذهبین عدم الجواز، ولکن ذکر البهوتي من الحنابلةأن الاعتیاض عنه وإن کان لایجوز بطریق البیع، ولکنه یجوز بطریق التنازل والصلح عن الحق. وکذلك من سبق إلی مکان في المسجد فهو أحق بذلك المکان، وله أن یؤثر به غیره، ولکن لایجوز له أن یبیع هذا الحق، نعم ! ذکر البهوتي أنه یجوز له التنازل عنه بعوض. أما الحنفیة والمالکیة فلم أجد حکم بیع هذا الحق عندهم صراحة، وقیاس قوله أنه لایجوز عندهم أیضا.
بحوث في قضایا فقهیة معاصرة (1/97-110):
2- حق الأسبقیة:…………. ولم أر في کتب الحنفیة والمالکیة من تعرض لمسألة بیع حق الأسبقیة، وقد ذکروا أن التحجیر یثبت به الأحقیة في إحیاء الأرض وتملکها، ولکن ذکروا أن التحجیر تثبت به الأحقیة في إحیاء الأرض وتملکها، ولکن لم أجد حکم بیع هذا الحق عندهم، وقیاس قولهم أنه لایجوز عندهم أیضا، إلا أن یکون بطریق التنازل. فخلاصة الحکم في بیع حق الأسبقیة أنه وإن کان بعض الفقهاء یجوزون هذا البیع، ولکن معظمهم علی عدم جوازه، ولکن یجوز عندهم النزول عنه بمال علی وجه الصلح، والله سبحانه أعلم…………. إن للعرف مجالًا في إدراج بعض الحقوق في، فإن المالیة تثبت بتمول الناس، کما یقول ابن عابدین رحمه الله تعالیٰ.
فقه البیوع (1/270):
111- حق إنشاء العقد أو إبقاءه: والثالث: حق إنشاٰء العقد أوإبقاءه، والمراد بذلك حق إنشاء عقد مع آخر أو إبقاءه، مثل خلو الدور والحوانیت، فإنه حق لإنشاء عقد الإجارة مع صاحب البقعة أو إبقاءه في المستقبل، ومثل حق الوظائف السلطانیة أو الوقفیة، فإنه حق لإبقاء عقد الإجارة مع الحکومة أو ناظر الوقف. وقد اتفقت المذاهب الفقهیة علی أنه لایجوز بیع هذا الحق، ولکن کثیرا من الفقهاء الحنفیة والشافعیة والحنابلة جوزوا التنازل عنها بعوض.
المجلة (ص: 301):
مادة 1547: يلزم أن يكون المصالح عليه والمصالح عنه معلومين إن كانا محتاجين إلى القبض والتسليم، وإلا فلا……….. الخ
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
06/شعبان المعظم/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


