| 83156 | تصوف و سلوک سے متعلق مسائل کا بیان | معجزات اور کرامات کا بیان |
سوال
تصوف کے سلاسلِ اربعہ میں ایک سلسلہ نقشبندیہ ہے، اس کی ایک شاخ/جدید شکل "سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ" ہے، جس کے بانی/مجدد ایک عالم دین تھے، جن کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے بعد ان کے ایک خلیفہ بنے، وہ بھی عالم تھے، انہوں نے اس سلسلہ میں مزید کچھ اصلاحات کیں اور ان کا بھی انتقال ہوگیا، اب اس خلیفہ کے بیٹے موجودہ امیر ہیں جو اسی نہج پر سلسلہ کو آگے چلا رہے ہیں۔
اس سلسلہ کے چند نظریات درج ذیل ہیں:
- پورے سلسلے میں صرف ایک امیر ہوتا ہے، وہی بیعت کرسکتا ہے۔
- امیر صاحب ظاہر میں تو خود بیعت کرتے ہیں، مگر وہ ہر ہر مرید کو آپ ﷺ سے بیعت کرواتے ہیں جب ہی نو وارد سلسلہ میں داخل ہوتا ہے۔
- فی الحال پوری دنیا میں صرف ایک یہی سلسلہ ہے جو اس طرح بیعت کرواتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی کئی باتیں ایسی ہیں جو ایک عام انسان کے لیے قابل نظر ہیں، ان کی کتب کے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
- نسبتِ اویسیہ روح سے روح کے مستفید ہونے کا نام ہے اور دنیا ہو یا برزخ، روح سے استفادہ یکساں ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ دنیا میں ہر شخص خدمت ِ عالیہ میں حاضر ہوسکتا تھا، اوربرزخ میں کسی ایسے آدمی کی ضرورت پیش آجاتی ہے جو برزخ تک اس کی رہنمائی کرے اور وہاں تک آدمی کو پہنچائے ، اور ایسا وہی شخص کرتا ہے جو ان حضرات کا خادم یا نمائندہ ہو، فیض انہی کا ہوتا ہے، مگر اس کی تقسیم اس ایک وجود کے ذریعے ہوتی ہے، اسی کو خلیفہ کہا جاتا ہے۔ (ارشاد السالک 1/25)
- بیعتِ تصوف اسی احساس کو جگاتی ہے اور شیخ کا یہ اتنا بڑا احسان ہے کہ بندے کو یہ احساس دلادے کہ وہ بھی انسان ہے، اس کے سینے میں بھی دل ہے، اس دل میں اللہ کے جمال کی تجلی ہے، اس کے اندر بھی روح ہے، اس کا دل بھی اس قابل ہے کہ اللہ کا گھر بن جائے اور پھر شیخ صدیوں کے سینے چیر کر بندے کو بارگاہ نبوی ﷺ میں لے جائے اور آقائے نامدار ﷺ کے روبرو کردے۔ (بیعت کیا ہے؟ص: 6)
- یہ بیعت صرف وہ شخص لے سکتا ہے جو نہ صرف خود فنا فی الرسول ہو، بلکہ دوسرے کو بھی فنا فی الرسول کراسکتا ہے، سلسلہ نقشبندیہ اوسیہ میں ہم بیعتِ اصلاح یا بیعتِ امارت نہیں لیتے، بلکہ بیعتِ تصوف لیتے ہیں اور اس وقت اللہ کا فضل نسبتِ اویسیہ پر ہے،اور میرے علم میں نہیں ہے کہ کہیں روئے زمین پر اس وقت کسی دوسرے سلسلے کا کوئی ایسا شخص موجود ہو جو فنا فی الرسول کراسکتا ہو۔ (بیعت کیا ہے؟ ص:6)
- حضرت(بانی/مجدد) نے مختصر سا جواب دیا کہ میں تمہاری بات پر اس لیے یقین نہیں کرسکتا کہ وہ (حضرت کے خلیفہ )میرے ساتھ بارگاہ نبوت ﷺ میں حاضر ہوتا ہے۔ (بیعت کیا ہے؟ ص:15)
- ہاں جب میرے رب کو منظور ہو تو بیعت رسول اللہ ﷺ سے کراتا ہوں، جو پیر مرشد و شافع امت ہیں، ہاں اتنی عرض کروں گا: اس سلسلہ میں سلوک میں منازل طے کراتے ہیں، جب میرے رب کا فضل شامل حال ہو تو آپ کو اس بدکار سے بڑھ کر اس وقت کوئی آدمی نہ ملے گا۔ (مکتوبات: مکتوب نمبر1: ص:3)
ان چند حوالوں کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ اس سلسلہ میں بیعت کرنا اور ان نظریات کو اپنانا درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ دار الافتاء سے شرعی مسائل کا حکم بتایا جاتا ہے، شخصیات اور تنظیمات سے متعلق رائے کا اظہار اصولی طور پر دار الافتاء کے دائرۂ کار میں شامل نہیں۔ تصوف اور سلوک کا بنیادی مقصد شریعت کے احکام پر عمل کرنا ہے، اس کے لیے کسی اللہ والے سے اپنا تعلق قائم کیا جاتا ہے؛ تاکہ وہ انسان کی دینی تربیت کرے۔ کشف وکرامات اور خرقِ عادت کام تصوف میں مقصود یا مطلوب نہیں۔ کسی اللہ والے کو خرقِ عادت کے طور پر بیداری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوجانا ممکن ہے اور علمائے دیوبند اس کے قائل ہیں۔ لیکن اس کو کسی دینی اور اصلاحی سلسلے کا مستقل حصہ بنانا، لوگوں کو اس کی دعوت دینا اور یہ کہنا کہ امیر صاحب ظاہر میں تو خود بیعت کرتے ہیں، مگر وہ ہر ہر مرید کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرواتے ہیں، یہ شرعی حدود سے تجاوز ہے، جس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے۔
اگر مذکورہ سلسلہ میں واقعتاً یہ دعویٰ کیا جاتا ہو کہ شیخ ہر ہر مرید کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باضابطہ بیعت کراتے ہیں یا اس کے علاوہ کوئی خلافِ شریعت بات پائی جاتی ہو تو اس میں بیعت ہونے سے اجتناب ضروری ہوگا۔ اپنی دینی تربیت اور اصلاح کے لیے کسی متبعِ شریعت اللہ والے کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیے، جس کی دینی حیثیت مسلم ہو اور ان پر متدین اور مستند اہلِ علم اعتماد کرتے ہوں۔
(باستفادۃٍ من الفتاوی الصادرة من جامعة دار العلوم کراتشي: 1484/35 و 1537/28، مع تصرفٍ وزیادۃٍ)
حوالہ جات
روح المعاني (22/ 37-35):
المهند علی المفند، الجواب عن السؤال الحادي عشر (40):
فتاویٰ دار العلوم زکریا، رؤیة النبي علیه في الیقظة (1/54-51)
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
03/شعبان المعظم/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


