03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرایہ دارکا دکان خالی کرنے سے انکارکرنا،اس دکان سے کمائی کرنااورلوگوں کا اس سے خریداری کرنا
81993اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 

  مسجد انتظامیہ نے دکان کرائے پر دی کچھ عرصہ بعد اس شخص نے دکان کا سامان اورفرنیچرکسی دوسرے شخص کو بیچ دی اورمعاہدہ میں یہ واضح لکھوادیا کہ یہ کان مسجد کی ہے ﴿معاہدہ کی کاپی منسلک ہے﴾تقریباً دوسال بعد مسجد انتظامیہ نے مسجد اوراس کےساتھ ملحقہ دکانوں اورمسجد کے مدرسے کو کو دوبارہ تعمیرکرنے کا فیصلہ کیا جس کی اطلاع اس کاندارکو بھی دے دی گئی،پہلے مرحلے میں مسجد تعمیر کی گئی جوکہ پایہ تکمیل کو پہنچ گئی، اب جب مسجد کے ساتھ ملحقہ دکانوں اورمدرسے کی تعمیرکا وقت آیا ہے تو اس شخص نے دکان خالی کرنے سے صاف انکارکردیا ،کئی مرتبہ سمجھانے کے باوجودبھی وہ شخص دکان خالی نہیں کررہاہے جس کی وجہ سے مسجد کا کام ادھورا رہ گیاہے توان حالات میں علماء کرام سے درج سوالات ہیں :

١۔ اس دکاندارکے اس طرح کرنے کاکیاحکم ہے ؟

۲۔ یہ کاندارجو اس دکان سے کمارہاہے کیاوہ حلال ہے یاحرام؟

۳۔جو گاہک باوجود معلوم ہونے کے اس شخص سے ﴿جس کی وجہ سے مسجد کاکام رکاہواہے﴾کچھ خریدتاہے اس کاکیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 ١۔ معاہدہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد مالک دکان خالی کرنے کا کہے تو کرایہ دارپردکان خالی کرنا واجب ہوتا ہے، اور خالی کرنے سے انکار کرنا شرعا ناجائزہوتا ہے،کرایہ دار مالک کی رضامندی کے بغیر جب تک دکان کاروبارکرتا رہے گا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ظالم اور غاصب شمار ہوگا۔حدیث شریف میں آتا ہےکہ "خبردار اے مسلمانو! ظلم نہ کیا کرو، اور یاد رکھو کسی شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر دوسرے شخص کے لیے حلال نہیں ہے"لہذا مسئولہ صورت میں دکاندارکامسجدکی دکان خالی کرنےسےانکارکرنا ناجائزاورحرام ہے،اس پر لازم ہے کہ اس سے توبہ اوراستغفارکرےاورمسجد کی دکان فی الفورخالی کردے،اگردکاندارپھربھی دکان خالی نہ کرے تو مسجد انتظامیہ قانونی چارہ گوئی کرکے ان سےبزور دکان خالی کرواسکتی ہے ۔

۲۔ مسجد کی دکان پر بغیر اجازت کاروبار کرنا جائز نہیں ہے،یہ غصب کے زمرے میں آتاہے،تاہم کاروبار کرنے سے  اس کاروبار کی جو آمدنی  ہوگی وہ حرام تو  نہیں ہوگی، لیکن اس میں کراہت ضرور آجائے گی۔

۳۔دکاندارکا مسجد کی دکان خالی نہ کرنے والافعل یقیناً ناجائز اورحرام ہے،لہذا جس کو علم ہو کہ مذکورہ دکان مغصوبہ ہے تو اس کے لئے اس دکان سے چیزےخریدناحرام کام میں معاونت کے زمرےمیں  آئے گا اس لیے اس سے احتراز کرنا لازم ہے،تاہم اگراس کے باوجود کسی نےکوئی چیزخریدلی تو وہ چیزبہرحال خریدار کی ملک میں آجائے گی اور حرام نہیں کہلائے گی ۔

حوالہ جات

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: الا لا تظلموا، الا لا یحل مال امرء الا بطیب نفس منہ۔ (مشکوٰۃ، ج:1، ص:255، ط:قدیمی)

و"عن سعيد بن زيد ابن عمرو بن نفيل : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال"من ‌اقتطع ‌شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين(متفق عليه.)

وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 223):

"ومنها: انقضاء المدة إلا لعذر؛ لأنّ الثابت إلى غاية ينتهي عند وجود الغاية فتنفسخ الإجارة بانتهاء المدة، إلا إذا كان ثمة عذر بأن انقضت المدة وفي الأرض زرع لم يستحصد فإنه يترك إلى أن يستحصد بأجر المثل، بخلاف ما إذا انقضت المدة وفي الأرض رطبة أو غرس أنه يؤمر بالقلع؛ لأن في ترك الزرع إلى أن يدرك مراعاة الحقين، والنظر من الجانبين؛ لأن لقطعه غاية معلومة". 

قال اللہ تعالی:( وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ)(المائدۃ:2)

وفي شرح المنية للحلبي:

بنى مسجدا في أرض غصب لا بأس بالصلاة فيه۔(ردالمحتار على الدر المختار،کتاب الصلاۃ،مطلب في الصلاة في الأرض المغصوبة،ج:2،ص:44)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 381):

"وفي الواقعات: بنى مسجدًا على سور المدينة لاينبغي أن يصلي فيه؛ لأنه من حق العامة فلم يخلص لله تعالى كالمبني في أرض مغصوبة".

وفی الفتاوی الھندیة:

"الصلاة في أرض مغصوبة جائزة و لكن يعاقب بظلمه، فكما كان بينه و بين الله تعالى يثاب، و ما كان بينه و بين العباد يعاقب، كذا في مختار الفتوي". ( كتاب الصلاة، الباب السابع، الفصل الثاني فيما يكره في

الصلاة و ما لا يكره فيها، ١/ ١٠٩)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

15/11/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب