03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم بھائی کی میراث کی تقسیم
83450میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحوم وسیم کے انتقال کے وقت اس کے ورثاء میں سے ایک بیوی، تین بیٹیاں، دو بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں۔مرحوم کے انتقال کے وقت ان کے والدین اور دادا ، نانا ،نانی وغیرہ میں سے کوئی بھی حیات نہیں تھے، لہذا مرحوم کے ورثہ کو شرعاً کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم وسیم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (3/1) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد (مرحوم وسیم کی) کل جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کو فیصد کے اعتبار سے تقسیم کی جائے گی ۔بیوہ کو %12.5 فیصد حصہ، تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو %22.22 فیصد حصہ، دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو %5.952 فیصد حصہ اور تینوں بہنوں میں سے ہر ایک کو %2.976 فیصد حصہ ملے گا۔

نمبر شمار

ورثہ کی تفصیل

فیصدی حصص

  1.  

بیوہ

12.5%

  1.  

بیٹی (الف )

22.22%

  1.  

بیٹی  (ب)

22.22%

  1.  

بیٹی(ج)

22.22%

  1.  

بھائی (الف )

5.952%

  1.  

بھائی (ب)

5.952%

  1.  

بہن(الف)

2.976%

  1.  

بہن(ب)

2.976%

  1.  

بہن (ج)

2.976%

  1.  

مجموعہ

99.99%

حوالہ جات

قال اللہ تعالی :فَإِن كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ ... الخ.(سورة النساء :11)

 قال اللہ تعالی : فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ... الخ(سورة النساء :12)

  قال اللہ تعالی :وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ... الخ(سورة النساء :176)

  محمد مفاز

 دارالافتاء، جامعۃ الرشید،کراچی

 شعبان 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مفاز بن شیرزادہ خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب