| 83200 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرے شوہر مجھے نقاب کرنے سے روکتے ہیں، البتہ برقعہ پہننے کی اجازت دیتے ہیں، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ موٹے نقاب کی وجہ سے مجھے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، کیا میں اپنے شوہر کی فرمائش پر نقاب کرنا چھوڑ سکتی ہوں؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نوجوان عورت کے لیے چہرے کا نقاب فتنہ کے پیشِ نظر حجاب میں شامل ہے، اور اس کا قرآن کریم میں باقاعدہ حکم دیا گیا ہے، چنانچہ قرآن کریم کی آیت مبارکہ ہے:
{يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ}
[الأحزاب: 59]
ترجمہ: اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے فرما دیجیے کہ (باہر نکلتے وقت) اپنے اوپر بڑی چادریں اوڑھ لیا کریں۔
اس آیت کی تفسیر کے تحت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت اس طرح باہر نکلے کہ اس کی صرف ایک آنکھ کھلی ہو، لہذا نوجوان عورت کے لیے خوفِ فتنہ کے پیشِ نظر اجنبی مردوں کے سامنے چہرے کا حجاب یعنی پردہ کرنا شرعی حکم ہے اور کسی بھی شرعی حکم کی ادائیگی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں، لہذا آپ کے شوہر کا آپ کو چہرے کے نقاب سے منع کرنا درست نہیں اور اس معاملے میں آپ کے لیےاس کی اطاعت جائز نہیں۔
حوالہ جات
تفسير الطبري ت شاكر (20/ 324) مؤسسة الرسالة،بيروت:
عن ابن عباس، قوله (يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ) أمر الله نساء المؤمنين إذا خرجن من بيوتهن في حاجة أن يغطين وجوههن من فوق رءوسهن بالجلابيب ويبدين عينا واحدة.
تفسير مقاتل بن سليمان (3/ 507) دار إحياء التراث – بيروت:
يا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْواجِكَ وَبَناتِكَ وَنِساءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ يعني القناع الذي يكون فوق الخمار وذلك أن المهاجرين قدموا المدينة ومعهم نساؤهم فنزلوا مع الأنصار في ديارهم فضاقت الدور عنهم. وكان النساء يخرجن بالليل إلى النخل فيقضين حوائجهن يعني البراز فكان المريب يرصد النساء بالليل فيأتيها فيعرض عليها ويغمزها فإن هويت الجماع أعطاها أجرها وقضى حاجته وإن كانت عفيفة صاحت فتركها. وإنما كانوا يطلبون الولائد فلم تعرف الأمة من الحرة بالليل فذكر نساء المؤمنين ذلك لأزواجهن وما يلقين بالليل من الزناة، فذكروا ذَلِكَ للنبي- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فأنزل الله- عز وجل- «يا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْواجِكَ وَبَناتِكَ وَنِساءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ».
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
10/شعبان المعظم 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


