| 81618 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
بعد از سلام عرض ہے کہ میرانام .......... ولد .......... ہے۔میری دو بیویاں ہیں ،پہلی صاحبزادی اور دوسری سلمیٰ بی بی ہے۔میرا اور میری دوسری بیوی سلمیٰ کا میرے تاخیر سے گھر آنےپر اکثر جھگڑا رہتا تھا ،جس پر 2023/10/13کو کام سے آکر تھکن میں طیش میں آکر سلمیٰ سے بولاکہ تم نے مجھے پاگل کر دیا ہے، میرا دل تو کرتاہے کہ میں تمہیں ہلاک کر دوں، جس پر سلمیٰ حیران و پریشان ہو گئی اور قرآنِ کریم اٹھا کر میرے سامنے آگئی اور بولی :اس قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ اقرار کریں کہ اگر آپ مجھے ازدواجی حیثیت میں نہیں رکھنا چاہتے تومجھے طلاق دے دینا لیکن مجھے ہلاک کرنے کی غلطی نہ کرنا۔رات گزر جانے کے بعد صبح سلمیٰ کے رویے اور اس کی حرکت کی وجہ سے میں طیش میں رہا جس کے باعث سویرے میں نے طلاق نامہ منگوا لیا اور اس پر دستخط بھی کردیے اور انگوٹھا بھی لگا دیااور پھر دو گواہوں کی موجودگی میں سلمیٰ سے بھی دستخط اور انگوٹھا لگوا لیا۔ہم مشترکہ طور پر اس فیصلے پر شرمندہ ہیں۔چونکہ یہ نارمل کیفیت میں نہیں ہوا بلکہ ایک جذباتی اور ہڑبڑاہٹ میں طیش سے لیا گیا فیصلہ تھا،اب ہم ازدواجی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ،لیکن یہ لازم ہو گا کہ اب اس معاملے میں علمائے دین سے رائے لی جائے ،کیونکہ ہم شرعی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی کسی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں،جبکہ نقطہ یہ بھی ہے کہ میں محمد موسیٰ نے اپنی زوجہ سلمیٰ کو ایک بار بھی زبانی کلمات ادا نہیں کیے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " ۔آپ سے درخواست ہے کہ اس حساس اور سنجیدہ مسئلہ پر قرآنِ کریم اور حدیث کی روشنی میں فیصلہ فرمائیں۔ آپ کی تہہ ِ دل سے نوازش ہو گی!
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق غصے کی حالت میں بھی ہو جاتی ہے۔صورتِ مسئولہ میں طلاق نامہ پر دستخط کرتے ہی اس عورت پر تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور دستخط کے وقت سے عدت کی مدت بھی شروع ہو گئی ہے۔ اب آپ دونوں میاں بیوی والے تعلقات نہیں رکھ سکتے،اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی گنجائش ہے ۔اب وہ عورت بغیر حلالہ شرعیہ کےآپ کے نکاح میں واپس نہیں آسکتی ۔
حوالہ جات
وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا جميعا فقد خالف السنة وأثم بربه ،وهي طالق ثلاثا، لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره ويدخل بها.)الأصل لمحمد بن الحسن:/4 466 (
وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.( الدر المختار وحاشية ابن عابدين: 3 / 246)
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: 3 / 187)
عابد مجید
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
12ربیع الثانی1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حافظ عابد علی ولد عبدالمجید | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


