03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح خواں کا نکاح نامے کے لئے الگ سے فیس کا مطالبہ کرنا
81368جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

میری بیٹی کا نکاح تقریبا ایک سال پہلے ہوا تھا،یہ نکاح  قاضی عبدالرحمن غریب آباد گوٹھ والے پڑھایا تھا،بیٹی کے شوہر نے اپنی بیوی کو حق مہر میں ساٹھ گز مکان لکھا تھا،لیکن اب لڑکے والے اس مکان کو فروخت کرنے کی کوشش میں ہے،جس کی وجہ سے میں قاضی صاحب کے چلاگیا کہ مجھے بیٹی کے نکاح کا پرچہ دے دیں،تو قاضی صاحب کبھی بولتے کہ گم ہوگیا ہے،کبھی بولتے کہ میں نے پھاڑدیا ہے۔

اب بول رہے ہیں کہ میں آپ کے لئے نیا نکاح نامہ بناکر دے دیتا ہوں،لیکن آپ کو تھوڑا خرچہ دینا پڑے گا،میں نے پوچھا کہ کتنے پیسے دوں؟ کہنے لگا بیس ہزار،میں بولا میرے پاس دس ہزار ہیں،یہ لے لو،تو قاضی بولا کہ نہیں بیس ہزار دینے پڑیں گے،آپ کی بیٹی کا نکاح پکا ہوجائے گا،اب آپ بتائیں کہ میں کیا کروں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہوجائیں تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے،شرعا نکاح کی پختگی کے لئے اس کی رجسٹریشن ضروری نہیں ہے۔

نیز اگر قاضی نے پہلی بار نکاح پڑھانے کی فیس وصول کی ہو اور آپ کے عرف میں نکاح خواں کے ذمے نکاح نامہ دینا لازم ہو،یا اس کا عرف تو نہ ہو،لیکن نکاح کا معاملہ کرتے وقت نکاح خواں کے ذمے نکاح نامہ دینے کی صراحت کی گئی ہو تو پھر قاضی کے لئے مزید رقم کا مطالبہ درست نہیں۔

البتہ اگر قاضی کے ذمے نکاح نامہ دینا آپ کے ہاں معروف نہ ہو،یعنی نکاح پڑھانے والا صرف نکاح پڑھاتا ہو،نکاح نامہ نہ دیتا ہو اور معاملہ کرتے وقت اس کی صراحت بھی نہ کی گئی ہو تو پھر قاضی کے ذمے نکاح نامہ دینا ضروری نہیں تھا اور اب اگر وہ اس کے عوض کچھ رقم کا مطالبہ کرے تو بھی اس کے لئے جائز ہے،تاہم کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا مناسب عمل نہیں،اس لئے اس صورت میں بھی قاضی صاحب کو نکاح نامے کی عام معروف اجرت سے بہت زیادہ کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

..........

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

02/ربیع الاول1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب