03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرضعہ عورت کے اقرار سے حرمت رضاعت کے ثبوت کا حکم
83749رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

بلال اور پاکیزہ آپس میں خالہ زاد ہیں، ان دونوں کے گھر والے دونوں کی شادی آپس میں کرنا چاہتے ہیں اور ان دونوں کی پیدائش بھی تقریبا قریب قریب  وقت میں ہوئی ہے۔ پاکیزہ کی والدہ مسرت بی بی کاکسی وقت یہ کہنا تھا کہ شیر خوارگی یعنی مدت رضاعت میں ایک دن بلال کی والدہ کی غیر موجودگی میں بلال کے رونے کی وجہ سے میں نے اسے دودھ پلایا تھا، جبکہ بعد میں مسرت بی بی نے یہ کہا کہ میں نے بلال کو دودھ نہیں پلایا تھا یا بلال نے دودھ نہیں پیا تھا، اب اس معاملہ میں مسرت بی بی کی بات ہی واحد دلیل ہے اوردودھ پلانے کے موقع پر  کوئی گواہ  بھی موجود نہیں تھا۔  اس سارے پس منظر کے ساتھ بلال اور پاکیزہ کی آپس میں شادی کروانا شرعی طور پر کیسا ہے؟

براہ کرم تفصیلی اور وضاحت کے ساتھ جواب درکار ہے، تاکہ شادی کے کاغذات کے ساتھ بطور سند و ثبوت رکھا جاسکے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ثبوت رضاعت کے لیے شرعی طور پر دو معتبر مرد یا ایک مرد اور دومعتبر عورتوں کی شہادت(گواہی) ضروری ہے، صرف مرضعہ (دودھ پلانے والی عورت ) کے اقرار سےحرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی، لہذا اگر مسرت بی بی دودھ پلانے کا اقرار کر بھی لے ، تو رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ یہاں تو اس نے انکار بھی کردیا ہے، لہذا اس کا اقرار بھی کالعدم ہوگیا ہے۔  جب رضاعت ثابت نہیں ہوئی ہے ، تو بلال اور پاکیزہ کا آپس میں نکاح شرعا درست ہے، البتہ اگر خاندان کے لوگوں کا غالب خیال یہ ہے کہ مسرت بی بی نےمدتِ رضاعت میں بلال کو  دودھ پلایا تھا، تو فریقین کو چاہیے کہ اس نکاح سے اجتناب کریں۔

حوالہ جات

  العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 35):

(سئل) في شهادة النساء وحدهن على الرضاع هل تقبل؟

(الجواب) : حجة الرضاع حجة المال وهو شهادة عدلين أو عدل وعدلتين ولا يثبت بشهادة النساء وحدهن لكن إن وقع في قلبه صدق المخبر ترك قبل العقد أو بعده كما في البزازية.

الفتاوى الهندية (1/ 347):

ولو شهد رجلان عدلان أو رجل وامرأتان بعد النكاح عندها لا يسعها المقام مع الزوج لأن هذه شهادة لو قامت عند القاضي يثبت الرضاع فكذا إذا قامت عندها كذا في فتاوى قاضي خان. وإن كان المخبر واحدا ووقع في قلبه أنه صادق فالأولى أن يتنزه ويأخذ بالثقة وجد الإخبار قبل العقد أو بعده ولا يجب عليه ذلك كذا في المحيط.

صفی اللہ

دارالافتاء جامعۃ  الرشید،کراچی

05/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صفی اللہ بن رحمت اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب