| 83727 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک کنسٹرکشن کمپنی جو مختلف پراجیکٹ پر کام کرتی ہے اور اسی کمپنی کا ایک ملازم (عبد اللہ) ہے ، جس کو ماہانہ سیلری ملتی ہے۔ کمپنی ایک پراجیکٹ پر کام کرنا چاہتی ہے، جس کا وہ اسی ملازم (عبد اللہ) کو ٹینڈر کرنے کا کہتی ہے، ٹینڈر کرنے کے بعد کچھ بلڈرز اس پراجیکٹ کو لینے کے لیے آتے ہیں، ان بلڈرز میں سے ایک بلڈر اس ملازم (عبد اللہ) کو کچھ پیسے دے کر پراجیکٹ اپنے لیے لینا چاہتا ہے۔ جبکہ اس بلڈر کا کام اور قیمت مناسب ہے، اور قوی امکان یہ ہے کہ کمپنی اسی بلڈر کو ہی وہ پراجیکٹ دے دے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس ملازم کے لیے اس بلڈر سے پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی اس کے بارے میں وضاحت فرما کر جواب عنایت فرمائیں۔
تنقیح: سائل سے زبانی بات کرکے معلوم ہوا کہ انہیں کمپنی کی طرف سے اس طرح سے پیسے لینے کی کوئی ہدایت نہیں ہے، بلکہ انہیں خود بلڈرز کی جانب سے اس طرح کی پیشکش ہوتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں رشوت دینا اور لینا دونوں حرام ہیں۔ کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی معقول اور حقیقی عذر(مثلا اپنے جائز حق کے حصول) کے بغیر کسی دوسرے کو رشوت دے کر اپنا کام کرائے اور رشوت لینے والے کے لیے تو کوئی گنجائش نہیں، رشوت لینا بہر صورت حرام اور گناہ کبیرہ ہے، لہذا صورت مسئولہ میں ملازم عبداللہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رشوت دینے والے بلڈر سے رشوت وصول کرکے پراجیکٹ اسی کو دےدے، بلکہ کمپنی کو جس بلڈر سے زیادہ نفع ملنے کا امکان ہو ، وہ پراجیکٹ اسی کو دلوا دیں اور اپنی حلال تنخواہ پر اکتفاء کریں۔
حوالہ جات
(سنن أبي داؤ:148/2):
عن عبدالله بن عمرو قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشى.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (6/ 2437):
(وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) : بِالْوَاوِ (قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ» ) : أَيْ: مُعْطِي الرِّشْوَةِ وَآخُذَهَا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 362) دار الفكر-بيروت:
الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة. الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.
الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط...وفي الأقضية قسم الهدية وجعل هذا من أقسامها فقال: حلال من الجانبين كالإهداء للتودد وحرام منهما كالإهداء ليعينه على الظلم وحرام على الآخذ فقط، وهو أن يهدى ليكف عنه الظلم والحيلة أن يستأجره إلخ.....
الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب.
صفی اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
02/ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


