03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“برقع پہن کے جاؤ، میں تنگ آچکا ہوں، میری طرف سے آزاد ہو” کہنے کا حکم
83668طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرے داماد نے میری بیٹی سے جھگڑا کیا اور کہا "برقع پہن کے جاؤ، میں تنگ آچکا ہوں، میری طرف سے آزاد ہو"۔  "میری طرف سے آزاد ہو" کی بات اس نے دو مرتبہ کی۔ اس وقت ہم بھی وہاں موجود تھے۔ اس بات کے گواہان تین آدمی ہیں، دو مرد اور ایک خاتون۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کے داماد نے واقعۃً آپ کی بیٹی کو جھگڑے میں یہ  الفاظ "برقع پہن کے جاؤ، میں تنگ آچکا ہوں، میری طرف سے آزاد ہو" کہے ہیں تو ان الفاظ سے آپ کی بیٹی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے، اور ان دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے۔ اب اگر وہ دونوں چاہیں تو نئے مہر کے بدلے گواہوں کے سامنے دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں، البتہ دوبارہ نکاح کے بعد آپ کے داماد کے پاس آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، یعنی اگر وہ مزید دو طلاقیں دے گا تو ان دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائے گی، جس کے بعد نہ رجوع ممکن ہوگا، نہ دوبارہ نکاح۔   

(باستفادۃٍ من امداد الاحکام:2/444-470)

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       25/ شوال المکرم/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب