| 83793 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کام اس مسئلہ کے بارے میں:
کہ چھ بھائیوں نے مشترکہ طور پر باقی زمین کو تقسیم کرکے کچھ حصہ مسجد کے لئے چھوڑی ہے کہ یہ جگہ مسجد کے لئے وقف ہے اور اس پر مسجد ہی بنے گی،چونکہ زمین خالی پڑی ہے اور ابھی تک اس زمین پر مسجد کے بنانے کا کوئی کام شروع نہیں ہوا ہے،بعض لوگ اس جگہ پر کچرا ڈالتے ہیں۔کیا ایسی زمین پر کچرا اور کوڑا کرکٹ ڈال سکتے ہیں یا نہیں؟
تنقیح:سائل نے زبانی طور پر بتایا کہ یہ الفاظ"کہ یہ جگہ مسجد کے لئے وقف ہے " زبانی طور پر اگرچہ نہیں کہے ہیں مگر ان کی مراد یہی تھی کہ یہ جگہ ہم نے مسجد کے لئے ہی وقف کی ہے۔مزید یہ بتایا کہ ان بھائیوں کی دو بہنیں بھی ہیں اور یہ زمین ان کی اجازت کے بغیر مسجد کے لئے متعین کی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کسی بھی جگہ کو مسجد کے لئے وقف کرنے کے لئے کم ازکم اتنا ضروری ہے کہ باقاعدہ زبانی طور پرزمین وقف کردے، لہذاصرف ارادہ ظاہر کرنے یا مسجد کے لئے صرف جگہ چھوڑنے سے وہ زمین مسجد کے لئے وقف نہیں ہوتی،مزید یہ کہ وقف کے درست ہونے کے لئے واقف کا موقوفہ زمین کامالک ہونا بھی ضروری ہے،چونکہ زمین میں بھائیوں کے ساتھ ساتھ بہنوں کا بھی حصہ ہے لہذا ان سے اجازت لئے بغیر زمین کو وقف کرنے سے بھی وقف لازم نہیں ہوگا اور صرف بھائیوں کا حصہ چونکہ مشاع ہے لہذا اس کا بھی مسجد کے لئے وقف ہونا درست نہیں ہے،مذکورہ بالاتفصیل کی روسے جب یہ جگہ شرعی مسجد نہیں ، تواس جگہ پر کچراپھینکنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 343):
(والملك يزول) عن الموقوف بأربعة بإفراز مسجد كما سيجيء و (بقضاء القاضي) لأنه مجتهد فيه، ...
(أو بالموت إذا علق به) أي بموته كإذا مت فقد وقفت داري على كذا فالصحيح أنه كوصية تلزم من الثلث بالموت لا قبله... (أو بقوله وقفتها في حياتي وبعد وفاتي مؤبدا) فإنه جائز عندهم، لكن عند الإمام ما دام حيا هو نذر بالتصدق بالغلة فعليه الوفاء وله الرجوع، ولو لم يرجع حتى مات جاز من الثلث.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 205):
وأما ركنه فالألفاظ الخاصة الدالة عليه وهي ستة وعشرون لفظا الأول أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ولا خلاف فيه الثاني صدقة موقوفة فهلال وأبو يوسف وغيرهما على صحته لأنه لما ذكر صدقة عرف مصرفه وانتفى بقوله موقوفة احتمال كونه نذرا الثالث حبس صدقة الرابع صدقة محرمة وهما كالثاني الخامس موقوفة فقط لا يصح إلا عند أبي يوسف فإنه يجعلها بمجرد هذا اللفظ موقوفة على الفقراء وإذا كان مفيدا لخصوص المصرف أعني الفقراء لزم كونه مؤبدا لأن جهة الفقراء لا تنقطع قال الصدر الشهيد ومشايخ بلخ يفتون بقول أبي يوسف ونحن نفتي بقوله أيضا لمكان العرف وبهذا يندفع رد هلال قول أبي يوسف بأن الوقف يكون على الغني والفقير ولم يبين فيبطل لأن العرف إذا كان يصرفه إلى الفقراء كان كالتنصيص عليهم.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 268):
{فصل} لما اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف أفرده بفصل على حدة وأخره قوله (ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه وإذا صلى فيه واحد زال ملكه) ...وقال أبو يوسف يزول ملكه بقوله جعلته مسجدا لأن التسليم عنده ليس بشرط لأنه إسقاط لملك العبد فيصير خالصا لله تعالى بسقوط حق العبد وصار كالإعتاق.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 340):
(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد بشراء أو صلح، ولو أجاز المالك وقف فضولي جاز وصح وقف ما شراه فاسدا بعد القبض وعليه القيمة للبائع وكالشراء الهبة الفاسدة بعد القبض.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعہ الرشید،کراچی
07/ذیقعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


