| 83684 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میں محمد نواز بن علی زمان نےآج سے 8 ماہ پہلے اپنی اہلیہ کو اپنے والدین کی موجودگی میں کہا تھا کہ اگر میری اجازت کے بغیر تم اپنے گھر والوں سے یعنی والدین سے ملی، فون کیا ،کسی بھی قسم کا رابطہ رکھا تو تم پر تین طلاق واقع ہو گئی، ایک بار نہیں، بار با رکہا تھا۔ اس کے باوجود اہلیہ اپنے والدین سے ملی بھی اور رابطہ بھی کیا۔ میرے علم میں جب آیا اس کے بعد میں نے اس سے کوئی تعلق نہیں رکھا، خاموشی اختیار کر لی، بس ماہانہ خرچ دیتا رہا۔
اب میری رہنمائی فرمائیں کہ آیا یہ ایک طلاق ہوئی یا تین یا سرے سے طلاق ہوئی ہی نہیں ؟اگر ہو گئی ہے تو اب رجوع کی گنجائش ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جب بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جائے گا توشرط پائے جانےپراس کو طلاق واقع ہوجائےگی،لہذاصورت مسولہ میں بیوی کا آپ کی اجازت کےبغیرگھر والوں سے رابطہ رکھنے کی شرط پائے جانے کی وجہ سےاس کو تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ،اس لئے اب آپ کا ان سے زوجیت کا تعلق ختم ہو گیاہے ،موجودہ صورت میں بیوی آپ کےلیےحلال نہیں۔نہ اس سے رجوع کی کوئی گنجائش ہے،نہ دوبارہ نکاح ہو سکتاہے۔
البتہ اگر عورت طلاق کی عدت گزارے اور کےبعد طلاق کی شرط لگائے بغیر کسی دوسرے شخص سے نکاح کر ے ۔اگر ہمبستری کے بعد شوہر اپنی رضامندی سے طلاق دے دے یا وہ فوت ہو جائے تو طلاق یا وفات کی عدت گزار نے کےبعد اس کی رضامندی سےآپ دوبارہ اس سے نکاح کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(سورۃ البقرہ:230):
فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُها لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.
مسند أحمد مخرجا (41/ 195):
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا آخَرُ، ثُمَّ طَلَّقَهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمَسَّهَا، قَالَ: «لَا يَنْكِحُهَا الْأَوَّلُ حَتَّى تَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهِ، وَيَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهَا».
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 30):
[فصل في حكم اليمين التي تعلق بها الطلاق والعتاق عند وجود الشرط]
(فصل) :
وأما حكم هذه اليمين فحكمها واحد وهو وقوع الطلاق أو العتاق المعلق عند وجود الشرط فتبين أن حكم هذه اليمين وقوع الطلاق والعتاق المعلق بالشرط، ثم نبين أعيان الشروط التي تعلق بها الطلاق والعتاق على التفصيل، ومعنى كل واحد منهما حتى إذا وجد ذلك المعنى يوجد الشرط فيقع الطلاق والعتاق وإلا فلا، أما الأول فلأن اليمين بالطلاق والعتاق هو تعليق الطلاق والعتاق بالشرط ومعنى تعليقهما بالشرط - وهو إيقاع الطلاق والعتاق في زمان ما بعد الشرط - لا يعقل له معنى آخر، فإذا وجد ركن الإيقاع مع شرائطه لا بد من الوقوع عند الشرط.
المبسوط للسرخسي (6/ 8):
(قال) ولا تحل له المرأة بعد ما وقع عليها ثلاث تطليقات حتى تنكح زوجا غيره يدخل بها والطلاق محصور بعدد الثلاث ولا خلاف بين العلماء أن بيان التطليقتين في قوله تعالى {الطلاق مرتان} [البقرة: 229] وإنما اختلفوافي الثالثة فقيل هي في قوله {أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229] وهكذا روي أن أبا رزين العقيلي - رضي الله عنه - «سأل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وقال عرفنا التطليقتين في القرآن فأين الثالثة فقال - صلى الله عليه وسلم - في قوله تعالى {أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229] » وأكثرهم على أن بيان الثالثة في قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] لأنه عند ذكرها ذكر ما هو حكم الثالثة، وهو حرمة المحل إلى غاية ومعناه فإن طلقها الثالثة ولا خلاف بين العلماء أن النكاح الصحيح شرط الحل للزوج الأول بعد وقوع الثلاث عليها.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعہ الرشید،کراچی
27/شوال/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


