03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زائم نام رکھنے کاحکم
83864جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

میں نے اپنے بیٹے کا نام محمد زائم رکھا ہے، جو کے قرآن میں 2 بار آیا ہےاور اس کا معنی ہے "leader"، لیکن کچھ لوگ اس پر اعتراض کر رہے ہیں کہ اس کامعنی درست نہیں اور اس نام کے ساتھ محمد بھی نہیں لگا سکتے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لفظِ’’زائم‘‘ڈرانے والا،اچانک موت مرنے والا،بڑبڑاتے ہوئے غصہ سے دیکھنےوالا،وغیرہ کے معنی میں ہے،لہذا  اس کا معنی نام رکھنے کے لئے درست نہیں ہے،اگرآپ کی مراد لفظِ’’زعیم‘‘ہےجو کہ ’’ز‘‘پر زبراور ’’ع‘‘کے نیچے زیر کے ساتھ پڑھاجاتاہےاور اس کامعنی:سربراہ،لیڈر،صدراور ضامن وکفیل وغیرہ ہے تو ایسانام رکھنا اور اس کے ساتھ محمد  لگانا   دونوں جائز ہے۔

حوالہ جات

القران الکریم (72/ 12):

قالُوا نَفْقِدُ صُواعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ .

القران الکریم (40/ 68):

سَلْهُمْ أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ.

العين (7/ 395):

زام: زأمت الرَّجلَ: ذعرته فأنا زائم، وذاك مَزْءُوم.. ولغةٌ أخرى: زَئِمَ، أي: ذُعِرَ وفَزِعَ، [يقال] : رجلٌ زَئِمٌ، أي: فَزِعٌ. والمَوْت الزُّؤام: الموتُ الوَحِيُّ.

معجم اللغة العربية المعاصرة (2/ 1011):

زامَ يزوم، زُمْ، زَوْمًا، فهو زائم. زامَ الشَّخصُ: نظر غاضبًا مغمغمًا بكلام لا يبين.

العين (1/ 364):

زعيمُ القوم: سيّدُهُمْ ورأسُهُمُ الذي يتكلم عنهمٌ. زَعُمَ يَزْعُمُ زَعامةً، أي: صار لهم زعيما سيدا. والزَّعيمُ: الكفيلُ بالشيء، ومنه قوله تعالى: وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

13/ ذیقعدہ/1445

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب