| 81735 | روزے کا بیان | وہ اعذار جن میں روزھ رافطارکرنا) نہ رکھنا( جائز ہے |
سوال
میری اہلیہ امید سے ہے،ابھی ہماری شادی کو تقریبا پندرہ دن ہوئے ہیں،اہلیہ کی طبعیت ٹھیک ہے،لیکن میری اہلیہ روزے چھوڑنے کا اشارہ دے رہی ہے،میں نے کہا کہ اگر آپ کی طبیعت خراب ہوئی یا کوئی مسئلہ پیش آیا تو آپ روزے قضا کرلینا،لیکن اہلیہ اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے،براہِ کرم اس معاملے میں راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی دیندار اور ماہر ڈاکٹر حاملہ عورت کو روزہ رکھنے سے اس وجہ سے منع کرے کہ روزے کی وجہ سے عورت کی جان کو خطرہ لاحق ہے،یا حمل کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں اس کے لئے روزہ چھوڑنے کی گنجائش ہے،عام نارمل حالات میں جب ایسا کوئی اندیشہ نہ ہومحض حالتِ حمل میں ہونے کی وجہ سے فرض روزے چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے۔
حوالہ جات
"بدائع الصنائع"(2/ 97):
"وأما حبل المرأة وإرضاعها: إذا خافتا الضرر بولدهما فمرخص لقوله تعالى {فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر} [البقرة: 184] .
وقد بينا أنه ليس المراد عين المرض، فإن المريض الذي لا يضره الصوم ليس له أن يفطر فكان ذكر المرض كناية عن أمر يضر الصوم معه.
وقد وجد ههنا فيدخلان تحت رخصة الإفطار.
وقد روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «يفطر المريض، والحبلى إذا خافت أن تضع ولدها، والمرضع إذا خافت الفساد على ولدها» .
"البحر الرائق"(2/ 307):
" (قوله: وللحامل والمرضع إذا خافتا على الولد أو النفس) أي لهما الفطر دفعا للحرج ولقوله - صلى الله عليه وسلم - «إن الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحامل والمرضع الصوم» قيد بالخوف بمعنى غلبة الظن بتجربة أو إخبار طبيب حاذق مسلم كما في الفتاوى الظهيرية على ما قدمناه؛ لأنها لو لم تخف لا يرخص لها الفطر".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
22/ربیع الثانی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


