03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے انتقال کے بعد فوت ہونے والے ورثا کے حصے کا حکم
81595میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال میراث صرف ان چار بیٹوں اور تین بیٹیوں میں سے صرف زندہ کے درمیان تقسیم ہوگی یا سب میں؟

سوال جن ورثا یعنی بہن یا بھائی کا انتقال ہوگیا ہے،ان کے حصے کی رقم ان کے بچوں تک پہنچانی ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم والد کی وفات کےوقت ان کے جو ورثا زندہ تھے ان سب میں تقسیم ہوگی،پھر جن ورثا کا بعد میں انتقال ہوگیا ہے،ان کا حصہ ان کی وفات کے وقت موجود ورثا کو دیا جائے گا۔

اگر ورثا کے حصوں کی تفصیل درکار ہو تو تمام ورثا کی تفصیل لکھ دوبارہ پوچھ سکتے ہیں۔   

حوالہ جات

...............

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب