03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نشے کی حالت میں خلع کا حکم
83934طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ ، سلام کے بعد عرض یہ ہے میرا نام سید شکیل ہے ، میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں اس وقت آئس کا نشہ کرنے لگ گیا تھا ، پھر اس دوران ہمارے لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے تھے ، میری شادی کو نوسال ہوگئے ، اور میرا سات سالہ ایک بیٹا بھی ہے، نشے کیوجہ سے میری بیوی نے مجھ سے خلع مانگ لی ، اور میں خلع پر سائن نہیں کرنا چاہ رہاتھا لیکن مجھ سے سائن کروایا گیا تو میں اس وقت تین راتوں سے جاگا ہواتھا اور زیادہ نشے میں تھا ، جب سائن کروایا تو میں اس وقت اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھا ، نشے میں تھا ،مفتی صاحب مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ اس رشتے میں کوئی گنجائش نکل سکتی ہے کہ یہ دوبارہ ہوجائے ، اور اللہ کا شکر ہے کہ میں اب بالکل ٹھیک ہوگیا ہوں ، تین مہینے اپنا علاج کروایا تاکہ نشہ چھوٹ جائے اور یہ میں نے اپنے بچے کےلیے کیاہے ، میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کو ماں باپ دونوں کا پیار ملے ، اور اب میں بالکل ٹھیک ہوگیاہوں ، کام بھی کرتاہوں ، اور کام پر جاتا ہوں ، مفتی صاحب میں اپنے بچے کے بغیر نہیں رہ سکتا ، اگر تھوڑی سی بھی گنجائش نکل سکتی ہے ، کیوں کہ مجھے اب پتہ چلا ہے کہ میں نے خلع نامہ پر سائن کردیا ہے ، جس وقت خلع نامہ پر سائن کیاتھا اس وقت میں اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھا ، اور مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ خلع نامہ ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 آئس کے نشہ میں طلاق دینے یا طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے بھی شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اور منسلکہ خلع نامہ میں تین طلاقیں درج ہیں ، لہذا مذکورہ صورت میں آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ۔اب رجوع نہیں ہوسکتا اور موجودہ صورت حال میں  دوبارہ نکاح کرنا بھی جائز نہیں ۔لہذا میاں بیوی پر لازم ہے کہ فوراً جدا ہو جائیں۔جدائیگی کے وقت  سے تین حیض عدت گزارکر عورت کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔دوسری جگہ نکاح اور اور رخصتی کے بعد اگر اتفاقی طور پر طلاق ہوتی ہے یا اس شوہر کا انتقال ہو جاتا ہے تو پھر یہ عورت اپنے پچھلے والے شوہر سے نکاح کر سکے گی۔

حوالہ جات

خلع ‌السكران والمكره جائز عندنا وخلع الصبي باطل والمعتوه والمغمى عليه من مرض بمنزلة الصبي في ذلك هكذا في المبسوط.(الفتاوی الھندیۃ :1/504)

طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط. ولو أكره على شرب الخمر أو شرب الخمر لضرورة وسكر وطلق امرأته اختلفوا فيه والصحيح أنه كما لا يلزمه الحد لا يقع طلاقه ولا ينفذ تصرفه كذا في فتاوى قاضي خان. أجمعوا أنه لو سكر من البنج أو لبن الرماك ونحوه لا يقع طلاقه وعتاقه كذا في التهذيب. ومن سكر من البنج يقع طلاقه ويحد لفشو هذا الفعل بين الناس وعليه الفتوى في زماننا كذا في جواهر الأخلاطي.(الفتاوی الھندیۃ : 353/1)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

20ذوالقعدْہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب