03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی شدہ لڑکی کو کنواری ظاہر کرنا
81676نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

لڑکے اور لڑکی کا رشتہ طے پاتا ہے،جس کے دوران لڑکی والوں کی طرف سے شادی شدہ لڑکی کو کنوارہ ظاہر کیا جاتا ہے اور نکاح فارم میں بھی ایسا ہی لکھا جاتا ہے،پھر شادی کے بعد پتہ چلتا ہے کہ لڑکی پہلے سے شادی شدہ ہے،جس کے بارے میں بتایا نہیں گیا اور نہ ہی طلاق نامہ دکھایا گیا،اس سلسلے میں شریعت کے کیا احکامات ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شادی شدہ لڑکی کو کنواری ظاہر کرنا غلط بیانی اور جھوٹ ہے،جو کبیرہ گناہ ہے اور اس سے احتراز لازم ہے،خاص کر نکاح کے معاملے میں،جہاں بعد میں سچ ظاہر ہونے کی صورت میں رشتے کے ٹوٹنے اور دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی کا اندیشہ ہو۔

نیز مذکورہ صورت میں اگر پہلا شوہر طلاق دے چکا ہو اور عدت گزرنے کے بعد دوسرا نکاح ہوا ہو تب تو یہ نکاح درست ہوگیا،لیکن اگر پہلے شوہر نے طلاق نہ دی ہو تو پھر دوسرا نکاح درست ہی نہیں ہوا،بلکہ یہ لڑکی بدستور پہلے شوہر کے نکاح میں ہے،البتہ طلاق کے وقوع کے لئے طلاق نامہ بنوانا ضروری نہیں،بلکہ اس کے بغیر زبانی طور پر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

حوالہ جات

"صفوة التفاسير" (1/ 247):

"{والمحصنات مِنَ النسآء إِلاَّ مَا مَلَكْتَ أَيْمَانُكُمْ} أي وحرّم عليكم نكاح المتزوجات من النساء إِلا ما ملكتموهن بالسبي فيحل لكم وطؤهنَّ بعد الاستبراء ولو كان لهنَّ أزواج في دار الحرب لأن بالسبي تنقطع عصمة الكافر".

"الفتاوى الهندية" (1/ 280):

"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع. ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها؛ تجب العدة، وإن كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب حتى لا يحرم على الزوج وطؤها، كذا في فتاوى قاضي خان. ويجوز لصاحب العدة أن يتزوجها، كذا في محيط السرخسي".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

19/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب