| 81877 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماِء کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
ایک مفتی صاحب دہلی سے سوال کا جواب لکھ کر باقاعدہ مرتب انداز میں سوال مع جواب ممبئی یا پھرکسی اور جگہ کے کسی مفتی صاحب کو برائے تصحیح بذریعہ واٹس ایپ، ای میل، ٹیلی گرام، فیس بک میسینجر (ذرائع ابلاغ) وغیرہ بھیجے اور وہ مفتی صاحب سوال و جواب پڑھنے کے بعد صحیح جواب نکلنے کی صورت میں بذریعہ واٹس ایپ، ای میل، ٹیلی گرام، فیس بک میسینجر (ذرائع ابلاغ ) ہی"الجواب صحیح" لکھے ، تو اس "الجواب صحیح " کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
کیا بطور تصحیح اس الجواب صحیح کواور اس جواب کی تصحیح کرنے والے مفتی صاحب کے نام و پتہ کو کمپیوٹر سے ٹائپ کر کے اس جواب کے آخر میں لکھا جاسکتا ہے؟
یہ واضح رہے کہ دونوں مفتی صاحبان آپس میں باصلاحیت اور آپس میں مضبوط رشتے والے ہوں، مثال کے طور پر شاگرد اور استاد ہوں یا پھر ایسے ہی دونوں کا گہرا تعلق اور مکمل اعتماد ہو، جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب اس مفتی نے جس کا نام فتوی کے آخر میں لکھا جارہا ہے اس جواب پر اطمئنان کا اظہار کردیا ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
......
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
03/جمادی الاولی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


