03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شیعہ سےدھوکہ سے مال لیناجائز نہیں ہے
83951جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا اس پس منظر میں شیعہ کے عام افراد سے دھوکہ سے مال لیا جا سکتا ہے؟

شیعہ اپنی  ابتدائی دور سے اسلام اور اہل اسلام کو نقصان ہی پہنچاتے آئے ہیں، شاید ہی کبھی ان  سے اسلام اور اہل اسلام کو کچھ فائدہ ہوا ہو، ان کا اختتام بھی  (جوعنقریب ہے) امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھوں ہوگا جس کے ضمن میں روایت ہے،کہ نامراد رہا وہ شخص جو بنو کلب کی غنیمت سے محروم رہا ، جسکا انطباق علماء کے نزدیک بشار الاسد اور اس کی قوم ہےجنہوں نے ظلم کو شرما کر رکھ دیا ہے اور ان کی مدد میں  زینبیون اور فاطمیون کے نام سے برصغیر کے شیعوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مذکورہ بالا پس منظر سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ اہل تشیع اپنے آپ کو اہلسنت کے خلاف حالت جنگ میں سمجھتے آئے ہیں ،اس لیے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شیعہ کے بہت سے فرقے ہیں اورسارے فرقے علی الاطلاق کافرنہیں ہیں،بلکہ ان میں سے جولوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدائی کے قائل ہوں  یاقرآن کریم کوتحریف شدہ مانتے ہوں  یاام المومنین حضرت عائشہ پرتہمت لگاتے ہوں یاحضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق اعتقادرکھتے ہوں کہ  انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی پہنچانے میں غلطی کی ہے  یااس قسم کے کسی اورکافرانہ عقیدے کے معتقد ہوں جو صریح قرآن اورنصوص قطعیہ کے مخالف ہوتووہ کافرہیں ، بعض محض تفضیلیہ ہیں جو حضرت علی  رضی اللہ عنہ کو  دیگر  خلفاء ثلاثہ  پر فضیلت دیتے ہیں، یہ اگرچہ کافر نہیں مگر فاسق و فاجر ہیں،البتہ ان سے معاملات اور تعلقات رکھنے کی  گنجائش ہے،لیکن کسی طرح ان سے دھوکہ سے مال لینا جائز نہیں ہےاور نہ ان کا مال مباح ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو حالتِ جنگ میں سمجھتے ہیں۔

باقی مذکورہ روایت اگرچہ حدیث کی کتابوں میں ملتی ہے مگر اس روایت کو  یقینی طور پر  کسی خاص گروہ پر منطبق کرنا بہت مشکل ہے ،ہماری معلومات کی مطابق کسی معتبر عالم نے اس روایت کی تطبیق آج کل کے بشارالاسد گروپ پرنہیں  کی ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم (4/ 29):

يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجارَةً عَنْ تَراضٍ مِنْكُمْ وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُمْ رَحِيماً.

سنن أبي داود (4/ 107):

4286 - حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قتادة، عن صالح أبي الخليل، عن صاحب له، عن أم سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يكون اختلاف عند موت خليفة، فيخرج رجل من أهل المدينة هاربا إلى مكة، فيأتيه ناس من أهل مكة فيخرجونه وهو كاره، فيبايعونه بين الركن والمقام، ويبعث إليه بعث من أهل الشام، فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة، فإذا رأى الناس ذلك أتاه أبدال الشام، وعصائب أهل العراق، فيبايعونه بين الركن والمقام، ثم ينشأ رجل من قريش أخواله كلب، فيبعث إليهم بعثا، فيظهرون عليهم، وذلك بعث كلب، والخيبة لمن لم يشهد غنيمة كلب، فيقسم المال، ويعمل في الناس بسنة نبيهم صلى الله عليه وسلم، ويلقي الإسلام بجرانه في الأرض، فيلبث سبع سنين...

صحيح البخاري (3/ 136):

2475 - حدثنا سعيد بن عفير، قال: حدثني الليث، حدثنا عقيل، عن ابن شهاب، عن أبي بكر بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر حين يشرب وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن، ولا ينتهب نهبة، يرفع الناس إليه فيها أبصارهم حين ينتهبها وهو مؤمن»، وعن سعيد، وأبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله «إلا النهبة».

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 46):

وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي،أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق،أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام

الفتاوى الهندية (5/ 348):

لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

21/ ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب