| 83698 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کے دو بھائی، ایک بہن اور ایک والدہ ہیں، والد کا 2016میں انتقال ہوگیا تھا ، دو بھائی اور بہن شادی شدہ ہیں-
زید کے والد نے جو اثاثہ جات اور میراث چھوڑی ہے اس کی تقسیم کیسے کی جائے گی؟ نیز کس وارث کا کتنے فیصد حصہ بنتا ہے؟
جو اثاثہ جات ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
گھر:جس گھر میں زید رہائش رکھتا ہے وہ زید کے والد نے خریدا اور زید کی والدہ کے نام کروایا-
زید کی والدہ کو یاد نہیں پڑتا کہ زید کے والد نے کبھی انہیں زبانی طور پر مالک قرار دیا ہو- اس گھر کی تقسیم کیسے ہوگی؟ زید کا ایک بھائی اپنا حصہ لینا چاہتے ہیں،اس بھائی کا کتنا حصہ بنتا ہے؟
سونا:زید کے والد نے وقتاً فوقتاً سونا خرید کر اپنی زوجہ کو تحفتاً دیا جو انہوں نے استعمال بھی کیا،اس سونے کی تقسیم کیسے ہوگی اور کس کا کتنا حصہ بنے گا؟
تانبا:زید کے والد موٹر کا کام کرتے تھے اور اُن میں سے پرانا تانبا نکال کر جمع کرتے تھے ، اس میں کس کا کتنا حصہ ہوگا؟
موٹر سائیکل:زیدکے والد نے دو موٹر سائیکل خریدی اور دونوں انہی کے نام ہیں، ایک موٹر سائیکل خریدتے وقت کہا تھا کہ یہ میں اپنے بڑے بیٹے کیلئے خرید رہا ہوں ، کیا یہ موٹر سائیکل مکمل طور پر اُن کے بڑے بیٹے کی ہوگی؟ نیز دونوں موٹر سائیکلوں میں کس کا کتنا حصہ ہوگا؟
قرض:زید کے والد نے ماموں کو کچھ قرض دیا جو ماموں نے والد کی وفات کے بعد ادا کیا،اس رقم میں کس کا کتنا حصہ بنتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم والدنے جوچیز جس وارث کو مالکانہ حقوق اوراختیارات دیکر قبضہ میں دیدی تھی تووہ چیزاس وارث کی شمارہوگی اورجس چیزکاصرف وعدہ کیایاصرف کاغذات کی حد تک نام پرمنتقل کیا،قبضہ اورتصرف نہیں دیاتووہ چیزمرحوم کی میراث میں شمارہوگی اورسب ورثہ کااس میں حصہ ہے،لہذاصورت مسؤلہ میں جوسونامرحوم نے بیوہ کوہد یہ کرکے قبضہ میں دیدیاتھاتواس پرکسی وارث کاحق نہیں،باقی تمام چیزیں ترکہ میں شامل ہوکر(مکان،تانبا،موٹرسائیکل،قرض کی رقم) سب ورثہ میں تقسیم ہوں گی، ہر وارث کے حصہ کی تفصیل درج ذیل ہے:
|
نمبرشمار |
ورثہ کی تفصیل |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
مجموعہ |
|
1 |
بیوہ |
1/8 |
12.5 |
12.5 |
|
2 |
بیٹا |
2/8 |
25 |
37.5 |
|
3 |
بیٹا |
2/8 |
25 |
62.5 |
|
4 |
بیٹا |
2/8 |
25 |
87.5 |
|
5 |
بیٹی |
1/8 |
12.5 |
100 |
حوالہ جات
الدر المختار للحصفكي (ج 5 / ص 259):
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."
العناية شرح الهداية (ج 12 / ص 264):
"ولنا قوله عليه الصلاة والسلام { لا تجوز الهبة إلا مقبوضة } والمراد نفي الملك ، لأن الجواز بدونه ثابت ، ولأنه عقد تبرع ، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به ، وهو التسليم فلا يصح."
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۹/شوال۱۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


